بنگلورو،15؍دسمبر(ایس او نیوز) فرقہ وارانہ تشدد سے بری طرح متاثر اُتر کنڑا کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ چند دنوں سے حالات معمول کی طرف لوٹ رہے تھے۔ مگر ایک ہائی اسکول طالبہ پر حملہ کے تازہ واقعہ نے ایک بار پھر ماحول کو کشیدہ کردیاتھا، مگر اب سچائی پر سے پردہ اُٹھنے کے بعد عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ کس طرح کچھ شرپسندلوگ عوام کے اندر غلط فہمیاں پیداکرکے تشدد برپا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
اس دوران ریاستی وزیر داخلہ رام لنگاریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھ کر فرقہ پرست جماعتیں ریاست میں امن وامان اور نظم وضبط میں خلل پیدا کرنے کی جو کوشش کرنے میں لگے ہیں ان کوششوں کو پوری طرح ناکام کرنے کے لئے اعلیٰ پولیس افسران کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ نے گذشتہ روز اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ جس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے ماحول کو ختم کرنے اور شرپسندعناصر پر کڑی نظر رکھنے سے متعلق انہوں نے اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتر کنڑا ، جنوبی کنڑا، اضلاع سمیت حساس علاقوں میں احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق اجلاس کے دوران پولیس کے تمام اعلیٰ افسران نے حکومت کو کئی طرح کی تجاویز اور مشورے پیش کئے ہیں۔ ان کو سنجیدگی سے لے کر ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خصوصی طورپر ساحلی علاقوں اور میسور میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی فرقہ پرست طاقتوں سے کوششیں ہورہی ہیں۔ گزشتہ 2ماہ سے اس طرح کی کئی وارداتیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ریاست میں عوام کی سلامتی اور عوام کی جانب سے حکومت پر اعتماد برقرار رکھنے کے لئے ریاستی آئی جی ،ڈی جی پی ،نیلامنی ایس ،راجو، اڈیشنل ڈی جی پی(نظم وضبط) کمل پنت، انٹلی جنس کے ڈی جی پی اشیت کمار موہن، شہر کے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار کے علاوہ ساتوں رنجیوں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس تمام اضلاع کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے بھی انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مذکورہ پولیس افسران کو امن وامان اور نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لئے سخت تاکید کی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ساحلی علاقوں سمیت دیگر مقامات پر فرقہ پرست جماعتیں تشدد برپا کرکے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی معاون پارٹیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہونے پر مجبور ہوکر نوجوان کی موت کو لے کر ہر دن ایک ضلع اوردوسرے دن تعلقہ کا انتخاب کرکے بند کے ذریعہ ماحول کو مکدر کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت نے نوجوان پریش میتا کی موت کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کے حوالے کی ہے۔ لیکن بی جے پی اس قتل کے معاملہ کے ذمہ دار ملزمین کی گرفتاری کی مانگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو پہلے جانچ کرنی ہوگی اس کے بعد ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائے جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کو آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شکست کا خوف ابھی سے ہونے لگا ہے۔ اسی لئے وہ ریاست میں تشدد کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ سائبر پولیس اہلکاروں کو خصوصی تربیت دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابی نتائج کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں کے انتخابی نتائج کا کرناٹک کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔