ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روہنگیابحران کے خاتمے کا آخری موقع، گوٹیرش کی سوچی کو تنبیہ

روہنگیابحران کے خاتمے کا آخری موقع، گوٹیرش کی سوچی کو تنبیہ

Sun, 17 Sep 2017 22:37:04    S.O. News Service

برلن، 17؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے مطابق میانمار کی رہنما سوچی کے پاس روہنگیا بحران کے خاتمے کا بس ایک آخری موقع بچا ہے۔ اب تک چار لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔جرمن دارالحکومت برلن اور آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے اتوار سترہ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے برطانیہ کے ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آج کہا کہ میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں اگست کے اواخر میں شروع ہونے والی تازہ ترین خونریزی کے دوران اب تک ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو جانے والے روہنگیا باشندوں کی تعداد چار لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ابھی ایسے ہزاروں نئے مہاجرین روزانہ بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔انٹونیو گوٹیرش نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ میانمار میں حکمران جماعت کی سیاسی رہنما راکھین میں جاری روہنگیا بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں نوبل امن انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ وہ ایسے تمام اقدامات کریں، جن کی مدد سے اس بحران کوختم کیاجاسکے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میانمار میں فوج کو، جو عشروں تک اس ملک میں اقتدار میں رہی ہے، ابھی تک ملکی سیاست پر غلبہ حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت راکھین میں جو صورت حال پائی جاتی ہے، اگر اس کا رخ نہ بدلا گیا تو مستقبل میں ’’یہی المیہ انتہائی ہولناک ثابت ہو گا۔‘‘راکھین میں اگست کے آخری ہفتے کے آغاز پر ملکی فوج کی متعدد چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر راکھین کے روہنگیا عسکریت پسندوں نے 12 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا سبب بننے والے بیک وقت جو کئی مربوط حملے کیے تھے، ان کے بعد وہاں فوج نے اپنی کارروائیوں کا آغا زکر دیا تھا۔ اس طرح ایک بار پھر خونریزی کی ایک نئی لہر شروع ہو جانے کے نتیجے میں اب تک وہاں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں بہت بڑی اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی۔ میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے جن قریب 400 افراد کو ہلاک کیا، وہ روہنگیا عسکریت پسند تھے۔ اس کے علاوہ اسی بدامنی کے دوران وہاں سینکڑوں گھر بھی جلا دیے گئے۔انٹونیو گوٹیرش نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ عالمی ادارے کی کئی ذیلی امدادی ایجنسیاں بنگلہ دیش میں نئے آنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ان مہاجرین میں نئی بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کے امکانات کا سدباب بھی کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف نے جنیوا میں اعلان کیا کہ بنگلہ دیش پہنچنے والے نئے روہنگیا مہاجرین میں سے 60 فیصد بچے ہیں، جنہیں مختلف وبائی امراض سے بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ میانمار کے اندر موجود قریب ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مہاجر بچوں کو بھی خسرے اور پولیو جیسی بیماریوں سے بچانے کے لیے ان کی ویکسینیشن کی جائے گی۔بنگلہ دیش میں یہ لاکھون نئے روہنگیا مہاجرین زیادہ تر راکھین کے ساتھ سرحد پر واقع بنگلہ دیشی ضلع کوکس بازار میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں یونیسیف، عالمی ادارہ صحت اور ڈھاکا حکومت مل کر یہ کاوشیں بھی کر رہے ہیں کہ ان لاکھوں انسانوں کے لیے حفظان صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا جو سالانہ اجلاس منگل انیس ستمبر سے شروع ہو رہا ہے، اس میں بھی روہنگیا بحران اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہوگا۔


Share: