نئی دہلی،9؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی میں حکمران عام آدمی پارٹی(آپ)میں راجیہ سبھا کے لئے اعلان کئے گئے تین امیدواروں کے ناموں پر جاری گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔کمار وشواس کو امیدوارنہ بنائے جانے کو لے کر ناراضگی کا اظہار کئے جانے کے بعد اب اس عدم اطمینان کی چنگاری پنجاب کے پارٹی کارکنوں کے درمیان پھوٹ رہی ہے۔پنجاب کے کھرڑ آپ ممبر اسمبلی کنور سدھو نے دہلی کے نائب وزیر اعلی اور پنجاب کے انچارج منیش سسودیا کو اس بابت خط لکھا ہے۔سدھو نے پارٹی کارکنوں کی ناراضگی سے سسودیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے وہ خاصے مایوس ہیں،بڑی بات یہ بھی ہے کہ کارکنوں نے پارٹی کے بانی ارکان میں سے ایک رہے کنوینر سنجے سنگھ کے نام پربھی سوال اٹھایا ہے۔پارٹی کارکنوں کے مطابق پنجاب انتخابات ہرانے والے سنجے سنگھ کو راجیہ سبھا کیوں بھیجا جا رہا ہے؟۔سدھو کے مطابق سنجے سنگھ کے رہتے پنجاب میں آپ کو نسبتا کامیابی نہیں ملی، پھر بھی پارٹی نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا۔آپ کوبتادیں کہ سنجے سنگھ پنجاب کے انچارج ہیں۔سنجے سنگھ کے علاوہ سدھو نے آپ کی جانب سے امیدوار بنائے گئے این ڈی گپتا اور سشیل گپتا کو بھی راجیہ سبھا بھیجے جانے پر سوال اٹھایا ہے،وہ کہتے ہیں کہ جب پارٹی سے دوسرے سینئر رہنماؤں کا تعلق تھا تو بیرونی کو کیوں بھیجاگیا؟۔سدھو نے خط میں لکھا کہ جب پارٹی میں کمار وشواس اور آشوتوش جیسے سینئر لیڈر موجود ہیں تو سشیل گپتا اور این ڈی گپتا کو امیدوار کیوں بنایا گیا۔سدھو نے لکھا کہ پارٹی کے فیصلے سے کارکنان مایوس ہیں، پارٹی کے حکام اور اراکین اسمبلی کو کارکنوں کے جذبات سے آگاہ کرانا ضروری تھا۔سدھو نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ اس معاملے کو لے کر ممبران اسمبلی کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ہے لیکن کچھ رکن اسمبلی امیدواروں کی نامزدگی سے ناخوش ہیں۔سدھو نے یہ بھی لکھا کہ اگر سنجے سنگھ کو ان کے کام کو لے کر راجیہ سبھا کے لئے امیدوار بنایا گیا تو پھر پارٹی میں ایسے کئی لیڈر ہیں جنہیں کام کا انعام ملنا چاہیے تھا۔کمار وشواس اور آشوتوش کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔