الور / راجستھان، 12 ؍نومبر(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )ملک میں گور کھشا کے نام پر تشدد اور دہشت گردی تھم نہیں رہی ہے اور یہ تھم بھی نہیں سکتی ؛ کیونکہ ملک کے سواد اعظم کو مفروضہ آستھا کا سودا سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق اسی راجستھان کے الور میں جہاں پہلو خان کو گؤ رکھشکوں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا وہیں ایک بار پھر گؤ رکھشکوں کی کھلی ہوئی قانون سے بالا تر دہشت گردی واقع ہوئی ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق راجستھان کے الور ضلع میں سے پک اپ میں گائے لے کر بھرت پور کے گھاٹ میکا گاؤں جا رہے دو مسلم گؤ کفیل ( گائے پالنے والا) کے ساتھ سنیچر کو دیر رات مارپیٹ کی گئی اور پھر گؤ رکھشکوں کی درندگی اور بے خوفی یہ کہ انہیں گولی مار کر موت کے گھاٹ بھی اتار دیا ۔ گؤ رکھشکوں کی اس دہشت گردی میں ایک نوجوان عمر خان کی موت ہو گئی ہے، جبکہ زخمی طاہر کا ہریانہ کے نجی ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ معاملے کی اطلاع کے بعد بڑی تعداد میں میو معاشرے کے لوگ الور کے راجیو گاندھی عام کلینک پہنچے۔میو طبقہ کے لوگوں نے الزام لگایا کہ پولیس کے ساتھ ہندو تنظیم کے لوگوں نے گائے لے کر جا رہے مسلم نوجوانوں کے ساتھ مارپیٹ کی اور گولی مار کر قتل بھی کر دیا اور ان کے اعضاء بھی ادھر ادھر منتشر بھی کردیئے گئے ۔ میو سوسائٹی کے لوگوں نے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے. فی الحال معاملے کی رپورٹ گوندگڑھ تھانے میں درج کی جارہی ہے ۔ اس سے پہلے اکتوبر مہینے میں راجستھان کے الور ضلع کے کشن گڑھ تھانہ علاقہ کے تحت ساہو باس رہائشی مسلم گؤ کفیل کے بیٹے نصرو خان اور ان کی بیوی سے گؤ رکھشک انتہا پسند لوگوں نے جبراً 51 سے زیادہ گائیں چھین کر بمبورا گوشالا پہنچا دیا تھا، اس میں بھی پولیس کی ملی بھگت سامنے آئی تھی۔ واضح ہو کہ پہلو خان کی شہادت میں بھی پولس کا متعصبانہ رول سامنے آیا تھا جب ان کو بے رحمی سے پیٹا جا رہا تھا تو اس وقت موقع پر پولس بھی موجود تھی جو صرف تماشائی بنی ہوئی تھی اور پھر بعد میں بھی اسی بہادر پولس نے شہادت سے متعلقہ تمام شواہد مٹا بھی دیئے جانے کا ارتکاب کیاہے اس کا الزام پہلو خان نے لگایاہے ۔ یہ وہی ملک ہے جہاں گورکھپور میں انسان کے بچے آکسیجن سے دم توڑ رہے ہیں اور جانور انسانوں سے بڑھ جدید سہولیات سے لیس ہور ہے ہیں ۔