نئی دہلی30مئی(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) دہلی ریاستی مشاورت کے صدرعبدالرشید اگوان صاحب نے ایک بیان جاری کر دہلی کے ویلکم پولیس تھانہ میں جمعیت علماء ہند سے وابستہ مقامی ذمہ داروں کی حراست اور ان کی پٹائی کو قابل تشویس قرار دیا اور کہا کہ ایک معمولی سی بات کو لے کرپولیس کا این کاوئنٹر کی دھمکی دینا یا کسی کو دہشت گرد قرار دینااس بات کی ثبوت ہے کہ پولیس جس کا کام قانون کی عزت اور نفاذہے اس میں اپنے اختیارات کے غلط استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے اور چند افسروں کی غلطی سے پورا محکمہ بدنام ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ۱۰۰ نمبر پر اپنی مدد کے کئے بلائے گئے آفیسر نے بھی انصاف اور قانون کا ساتھ دینے کے بجائے غلط کار لوگوں کا ہی ساتھ دیا۔اگوان صاحب نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ عوام کے دباؤ میں نہ صرف مظلومین کوچھوڑدیاگیابلکہ ڈی ایس پی ڈاکٹر اے کے سنگھلا نے فوراً ۳ پولیس جوانوں کو معطل کر دیا اور ان کے خلاف انکوائری کاآرڈر بھی جاری کیا۔دہلی مشاورت دہلی پویس کمشنر سے مطالبہ کرتی ہے کہ دہلی پولیس کے افسران کے لئے ایسی تربیت کے پروگرام منعقدکئے جائیں جن سے ان کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پاسبان بنایا جاسکے۔دہلی مشاورت کے میڈیاکے کوارڈینٹرمحمد عاطف سدیقی نے اس بات کا بھی مطالبہ کیاہے کہ جن پولیس والوں کے خلاف اب تک کارروائی نہیں کی جاسکی ان کے خلاف بھی از سر نو کارروائی کی جائے تاکہ پولیس پر لوگوں کا اعتماد قائم ہو۔