ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / دہلی پولیس نے مساجد سے جے این یوکے لاپتہ طالب علم نجیب کا اعلان کرنے کی درخواست کی

دہلی پولیس نے مساجد سے جے این یوکے لاپتہ طالب علم نجیب کا اعلان کرنے کی درخواست کی

Mon, 15 May 2017 00:21:00    S.O. News Service

نئی دہلی، 14/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جے این یوکے طالب علم نجیب احمد کومشتبہ حالت میں لاپتہ ہوئے 200سے زیادہ دن کا وقت گزرجانے پر اب دہلی پولیس نے اس معاملے میں کوئی سراغ ملنے کی امید سے قومی دارالحکومت اور پڑوسی ریاست اتر پردیش میں واقع مساجد سے نجیب کے بارے میں باقاعدہ طور پر اعلان کرنے کی اپیل کی ہے۔نجیب 14/اکتوبر کی رات کو اے بی وی پی کے ارکان کے ساتھ اس کے ہاسٹل میں مبینہ طور پر ہوئی مار پیٹ کے بعد سے مشتبہ حالت میں غائب ہوگیا تھا۔پولیس نے اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات دینے والوں کو 10لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔نجیب کی گمشدگی کی جانچ میں ابھی تک پولیس کے ہاتھ کوئی سراغ نہیں لگا ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے کہاکہ اس معاملے پر کئی ٹیموں کے کام کرنے کے باوجود ہم میں سے کوئی بھی سراغ پانے میں ناکام رہے، اب انہوں نے مساجد سے مدد مانگی ہے۔ جانچ حکام نے چاندنی چوک میں فتح پوری مسجد کے امام صاحب سے ملاقات کی اور ان سے نماز کے دوران نجیب کے بارے میں اعلان کرنے کی درخواست کی۔ایک سینئر پولیس افسر نے کہاکہ ہم نے لوگوں سے نجیب کے بارے میں کوئی بھی سراغ یا اطلاع شیئر کرنے کی اپیل کرنے کے لیے کہا ہے، ہم نے دہلی، پڑوسی علاقوں اور اتر پردیش میں بدایوں، بریلی جیسے کچھ شہروں میں باقاعدہ طور پر اعلان کرنے کی اپیل کی ہے۔پولیس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی اس کے لاپتہ ہونے کی معلومات شیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔دریں اثناء، نجیب کے اہل خانہ نے کہا کہ ان کا پولیس سے بھروسہ اٹھ گیا ہے، نجیب کے بھائی مجیب نے کہاکہ پہلے دن کی طرح آج بھی نجیب کے بارے میں ہمارے پاس کوئی سراغ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ان کے بھائی کا پتہ لگانے کے لیے کچھ خاص قدم نہیں اٹھایا ہے اور صرف ان کو ٹارچر کیا ہے۔ان سب کے درمیان بھی خاندان کو اب بھی نجیب کی واپسی کی امید ہے، جب بھی ان کے خاندان کے رکن کے پاس کسی نامعلوم نمبر سے فون آتا ہے، تو انہیں ہمیشہ لگتا ہے کہ یہ نجیب ہو سکتا ہے۔نجیب کی ماں فاطمہ نے کہاکہ میں اپنے بچوں کے سامنے نہیں روتی، کیونکہ وہ بھی مشکل دور سے گزر رہے ہیں، لیکن جب بھی میں اللہ سے دعا مانگتی ہوں،تو روتی ہوں، جب بھی نجیب کی پسند کا کھانا پکتا ہے،یا اس سے متعلق کوئی اور بات ہوتی ہے، تو میں اسے بہت یاد کرتی ہوں۔انہوں نے کہاکہ پولیس نے میرے بیٹے کی منفی شبیہ پیش کی ہے، وہ اچھے رویہ والا ہے،مجھے پورا بھروسہ ہے کہ وہ واپس آئے گا۔


Share: