نئی دہلی،20جنوری(آئی این ایس انڈیا) دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے 8 فروری کو پولنگ ہونا ہے۔دہلی میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان سیدھی ٹکر مانی جا رہی ہے،اگرچہ 15 سال تک دہلی کے اقتدار میں قابض رہی کانگریس بھی واپسی کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تمام 70 سیٹیں جیتنے کا دعوی کیا ہے۔
سسودیا کا خیال ہے کہ بی جے پی اور کانگریس مقابلے میں ہے ہی نہیں۔سسودیا نے کہا کہ لوگ دوسری ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس کے کئے کام پر غور کر سکتے ہیں،اگر وہ ان کے کام کاعام آدمی پارٹی سے موازنہ کریں گے تو پائیں گے کہ یہ دونوں پارٹیاں دہلی میں حکمران پارٹی کے ساتھ مقابلے میں بھی نہیں ہیں۔دہلی کے نائب وزیر اعلی نے کہاکہ ہمارا کسی سے مقابلہ نہیں ہے،لوگ دونوں پارٹیوں کی طرف سے حکومت دوسری ریاستوں میں کئے گئے کام پر غور کریں،بجلی کی شرح زیادہ ہے،تعلیم بھی کافی مہنگی ہے،دہلی میں جو بھی بی جے پی کے لیڈر ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت بنی تو بجلی اور پانی پر سبسڈی دینا بند کر دیں گے،عوامی بسوں میں خواتین کو مل رہے مفت سفر کی سہولت بھی بند کر دیں گے۔سسودیا نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کے آئے بیان اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دہلی کے وزیر اعلی اروندکجریوال کے آگے ہتھیار ڈال چکے ہیں،وہ بھی جانتے ہیں کہ کجریوال اقتدار میں واپسی کرنے جا رہے ہیں۔تعلیم، خزانہ، آرٹ، ثقافت سمیت کئی شعبہ سنبھال رہے نائب وزیر اعلی نے کہاکہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکمراں پارٹی پورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم نے کام کیا ہے تو ووٹ دیجئے، ورنہ مت دیجئے۔