ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوج جموں و کشمیر میں صدر راج چاہتی ہے

دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوج جموں و کشمیر میں صدر راج چاہتی ہے

Sun, 14 May 2017 22:49:28    S.O. News Service

نئی دہلی، 14/مئی(ایس او نیوذ/آئی این ایس انڈیا)کشمیر میں موسم گرما کے دوران ہندوستانی فوج کو دہشت گردانہ وارداتوں میں بھاری اضافہ کا سامنا ہے۔ایسے میں جموں و کشمیر میں گورنر راج کی آہٹ تیز ہو گئی ہے۔انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘کے مطابق،فوج نے مرکزی حکومت کو اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاست میں گورنر راج کے حق میں ہے۔اس رپورٹ کے مطابق،فوج کا خیال ہے کہ گورنر راج جنوبی کشمیر میں اسے دہشت گردوں سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔واضح رہے کہ یہ علاقہ پی ڈی پی کا گڑھ رہا ہے، لیکن گزشتہ سال فوج کے ساتھ ہوئے تصادم میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے یہاں کے حالات کافی کشیدہ ہیں۔گزشتہ دنوں جنوبی کشمیر میں بینکوں کو لوٹنے کی کئی وارداتیں سامنے آئی ہیں، کئی بار پولیس کے ہتھیار چھینے گئے ہیں، یہاں کے جنگلوں اور باغات میں دہشت گردوں کے جھنڈوں کی کئی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کا مانناہے کہ گزشتہ ایک سال میں جنوبی کشمیر کے سینکڑوں نوجوانوں نے ہتھیار اٹھالیا ہے، ایسے میں سخت کارروائی وقت کا مطالبہ ہے اور یہ گورنر راج میں ہی ممکن ہے۔فوج کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لیے کچھ گرفتار علیحدگی پسندوں کو کشمیر وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اعلی سطحی سیکورٹی افسر نے ’انڈین ایکسپریس‘کو بتایاکہ فوج کی رائے میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد وادی میں ناراضگی کی بڑی وجہ ہے، اگر گورنر راج نافذ ہوتا ہے تو کم از کم اس پہلو کا حل نکل آئے گا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،محبوبہ مفتی حکومت کے سرکاری ترجمان اور تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر گورنر راج کی کسی بھی منصوبہ بندی کی معلومات کی تردید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دہلی جب چاہے گورنر راج نافذ کرنے کے لیے آزاد ہے، حالانکہ اختر یہ بھی مانتے ہیں کہ اس اقدام سے حالات بہتر بنانے میں مدد نہیں ملے گی۔ان کے مطابق،اس مسئلہ کا صرف فوجی حل نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہم یہاں لوگوں کی بات کر رہے ہیں،وادی میں صورتحال صرف حساسیت پسندانہ رویہ ہی بہتر ہوگی اور حکمراں اتحاد کا یہی ماننا ہے۔اختر نے مانا کہ دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے ہی نمٹا جا سکتا ہے، لیکن اصل چیلنج اس کام میں لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کا ہے۔قابل ذکرہے کہ جموں و کشمیر کا اپنا الگ آئین ہے، ریاست کے آئین کے آرٹیکل 92کے مطابق،یہاں آئینی بحران کی صورت میں 6 ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے، اس کا اعلان صدر کی رضامندی سے گورنر کرتے ہیں۔گورنر راج کے دوران اسمبلی کو یا تو تحلیل کیا جا سکتا ہے یا پھر ملتوی کرنے کی تجویز ہے، اگر 6 ماہ میں آئینی نظام قائم نہیں ہوتا ہے،تو ہندوستانی آئین کی دفعہ 356کے تحت ریاست میں صدر راج لگایا جاتا ہے۔سائیں سمترا ٹریڈنگ نے اپنے پروڈکٹوں کی پٹنہ میں کی لانچنگ


Share: