ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دوانتخابات کے درمیان500فیصدبڑھی لیڈران کی جائیداد،معلومات نہ دینے پر سپریم کورٹ نے لگائی مرکزی حکومت کوپھٹکار

دوانتخابات کے درمیان500فیصدبڑھی لیڈران کی جائیداد،معلومات نہ دینے پر سپریم کورٹ نے لگائی مرکزی حکومت کوپھٹکار

Thu, 07 Sep 2017 19:22:01    S.O. News Service

نئی دہلی،،7؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے ان لیڈران کے خلاف اس کی کاروائی پرمعلومات کاخلاصہ نہیں کرنے کے مرکز کے رخ پرسخت تنقیدکی ہے ، جن کی جائیداد دو انتخابوں کے درمیان 500فیصدتک بڑھ گئی تھی۔عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ عدالت کے سامنے اس سلسلے میں لازمی معلومات رکھے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک طرف حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ انتخابی اصلاحات کے خلاف نہیں ہے لیکن اس نے ضروری تفصیلات پیش نہیں کی ہے۔یہاں تک کہ محکمہ برائے مرکزی ڈائریکٹر (سی بی ڈی ٹی)نے کورٹ میں جوحلف نامے دئے اس میں دی گئی ناقص تھی۔
جسٹس جے چیل میشور اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی بینچ نے کہا کہ سی بی ڈی ٹی حلف نامے میں معلومات ناقص ہے،کیا یہ ہندوستان کی حکومت کا رخ ہے؟ آپ نے ابھی تک کیا کیا ہے؟ بنچ نے کہا کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ وہ کسی اصلاح کے خلاف نہیں ہے،ضروری معلومات عدالت کے ریکارڈ میں ہونا چاہئے ۔عدالت نے حکومت سے اس سلسلے میں 12ستمبر تک تفصیلی حلف نامہ دائرکرنے کوکہا۔

سپریم کورٹ انتخابات کے لئے نامزد گی داخل کرنے کے دوران سپریم کورٹ نے امیدواروں کی آمدنی کے ذرائع کاخلاصہ کرنے کی درخواست پرسماعت کررہی تھی۔اس سلسلے میں دلائل ناقص رہے اور کل بھی جاری رہیں گے۔ مرکزی کی طرف سے موجود وکیل نے کہا کہ آزادی اور منصفانہ انتخابات ملک کے جمہوری ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت عظمی کی کسی بھی ہدایت کا خیرمقدم کریں گے۔


Share: