مڈیکیرے15؍اگست(ایس او نیوز) کرناٹکا حکومت کی طرف سے دو سال قبل ٹیپو جینتی منانے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا اس پس منظر میں سنگھ پریوار والوں نے خاص کر جنوبی کینرا میں ہنگامہ کھڑا کردیاتھا۔
مڈیکیرے میں ضلع انتظامیہ نے جب ٹیپو جینتی منانے کے لئے جشن کااہتمام کیا تو اس کے دوران ٹیپوجینتی منانے کے حامیوں اور مخالفین کے بیچ فرقہ وارانہ تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔جس پر قابو پانے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ مبینہ طور پر لاٹھی چارج کے دوران وشوا ہندوپریشد کے ایک کارکن کُوٹپّا کی موت بھی واقع ہوگئی تھی۔
اسی دن جب سداپور سے مڈیکیرے میں ٹیپو جینتی منانے کے لئے آئے ہوئے شاہ الحمیداور اس کے دوست واپس لوٹ رہے تھے تو کسی نے تاک لگاکران پرگولی چلائی تھی جس کے نتیجے میں شاہ الحمیدگولی لگنے سے زخمی ہوگیاتھا۔اس کا علاج کچھ دن تک اسپتال میں چلتا رہا مگر علاج کارگر نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔
پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد شاہ الحمید کے الزام میں کوَن،بھیشما اور رمیش کو گرفتار کیا تھا۔لیکن اب فرسٹ سیشن کورٹ نے ان تینوں ملزمین کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ(پولیس ) نے ان ملزمین کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔