جمیکا،یکم فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس ا نڈیا)دو بار عالمی کپ جیتنے والی کیریبین ٹیم کے اہم رکن رہے آندرے رسل پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک سال کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ویسٹ انڈیز کے ا سٹار آل راؤنڈر آندرے رسل پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ جمیکا ابجربر کی رپورٹ کے مطابق آزاد اینٹی ڈوپنگ انتظامی کمیٹی نے رسل کی طرف سے مارچ سے ستمبر 2015 کے درمیان اپنے ٹھکانے کی صحیح معلومات نہ دے پانے کی وجہ سے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ آندرے رسل اس پابندی کے بعد 31 جنوری، 2017 سے 30 جنوری، 2018 تک کسی بھی طرح کی کرکٹ سرگرمی سے باہر رہیں گے۔ اس پابندی کے بعد ادر رسل اس ماہ سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ اور اپریل میں شروع ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ میں بھی نہیں کھیل پائیں گے۔ اس اصول کے مسلسل تین خلاف ورزی کو منشیات ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے رسل پر پابندی لگائی گئی ہے۔
رسل کے وکیل پیٹرک فوسٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ پابندی کے خلاف اپیل کرنے سمیت تمام اختیارات پر وہ اپنے موکل سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ہیوفل آنر، ڈاکٹر مارجورآ ویسیل اور جمیکا کا سابق کرکٹر ڈاسیتھ پالمر والی تین رکنی ٹریبونل نے ادر رسل کو اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کا مجرم پایا اور ان کے اوپر ایک سال کی پابندی کا اعلان کیا۔ رسل سے جمیکا کی اینٹی ڈوپنگ ادارے نے سال 2015 میں تین بار ان سے ان کے اڈوں کی معلومات مانگی جہاں جہاں وہ تھے، رسل نے یہ معلومات ادارے کو فراہم نہیں کرائی جس کے بعد ان کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے۔
دو بار عالمی کپ (ٹی ۔20) جیتنے والی کیریبین ٹیم کے رکن رہے رسل نے اس فیصلے پر کوئی بیان دینے سے انکار کر دیا۔رسل پر لگا پابندی منگل سے شروع ہو جائے گی اور 30جنوری 2018 کو ختم ہوگی۔ رسل تاہم اس فیصلے سے کافی دلبرداشتہ نظر آئے اور اپنے آنسو نہیں روک پائے۔ 28 سال کے رسل نے 2016 میں منعقد ٹی 20 ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی خطابی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قوانین کے مطابق تمام کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کو اپنی مقامی اینٹی ڈوپنگ یونٹ کو ایک دن میں کم از کم ایک گھنٹے کے ٹھکانے کی معلومات دینی ہوتی ہے۔ ڈوپ ٹیسٹ لینے میں سہولت کو ذہن میں رکھ کر قاعدہ بنایا گیا ہے۔