ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دو اعلیٰ پولس آفسران کی خودکشی کا معاملہ : کیا کاروار انسپکٹربھی اپنے پیش روﺅں کی راہ پر چلیں گے ؟

دو اعلیٰ پولس آفسران کی خودکشی کا معاملہ : کیا کاروار انسپکٹربھی اپنے پیش روﺅں کی راہ پر چلیں گے ؟

Sun, 10 Jul 2016 14:12:02    S.O. News Service

بھٹکل 10جولائی (ایس او نیوز) ایک ہی ہفتہ میں پولس کے دواعلیٰ آفسران کی خودکشی کے بعدمیڈیا میں خبریں آرہی تھیں کہ اُن دونوں نے مبینہ طور پر سیاسی دباﺅ میں آکر خودکشی کی ، اب اسی طرح کا دباﺅ کاروار کے ڈی سی آر بی پولس انسپکٹرجی این موہن پر بھی ہے جنہیں وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنے بیٹے کے خلاف جھوٹاکیس درج کرنے پر کاروار ٹرانسفر کیا ۔بالخصوص ایک کنڑا اخبار نے سنیچر کو اپنے فرنٹ صفحہ پر سُرخی لگائی تھی کہ " خودکشی کے راستہ پر ایک اور آفسر، بیٹے کے خلاف معاملہ درج کرنے کا شاخسانہ" اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جس طرح دو اعلیٰ پولس آفسران نے اپنے سنئیر آفسران کی ہراسانی سے پریشان ہوکر خودکشی کی، اُسی طرح وزیراعلیٰ سدرامیا اور اُن کی کابینہ کے دو وزیروں کے دباﺅ سے پریشان ایک اور پولس آفسر خودکشی کی راہ پر جانے کا خطرہ محسوس کیاجارہا ہے۔ رپورٹ میں کاروار میں حال ہی میں ٹرانسفر ہوکر آنے والے جی این موہن کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ سن 2013 میں اسمبلی الیکشن کے موقع پروزیراعلیٰ سدرامیا کے فرزند راکیش سمیت کئی کانگریسی کارکنوں کے خلاف اس آفسر نے معاملات درج کئے تھے اور ورونا اسمبلی حلقہ کے نظر آباد پولس اسٹیشن تھانہ کے حدود میں فسادات پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔اس واقعے کے بعد سے ہی متعلقہ پولس انسپکٹر کو بار بار تنگ و ہراساں کیاجارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انتخابات کے بعد جیسے ہی سدرامیا ریاست کے وزیراعلیٰ بنے، انسپکٹرموہن کولمبے عرصہ تک سسپنڈ رکھا گیا تھا، پھر انہیں کاروار میں دفتری اُمورکی ذمہ داری سونپی گئی۔

اس ضمن میں جب وزیراعلیٰ سدرامیا سنیچر کوہاویری سے بنگلور لوٹنے کے دوران کچھ دیر کے لئے دھارواڑ پہنچے تو ایک اخبار نویس کے سوال پر سخت گرم ہوتے ہوئے سدرامیا نے اُلٹا سوال کیا کہ جب ایک انسپکٹر اُن کے بیٹے کے خلاف ہی جھوٹا معاملہ درج کرتا ہے، جو اُس وقت موقع پر موجود ہی نہیں رہتا،اور اُس کا کسی گڑبڑی سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا تو پھر وہ انسپکٹر جواب میں کس قسم کے سلوک کی توقع رکھتا ہے ؟ سدرامیا نے پوچھا کہ میرے بیٹے کے خلاف بغیر کسی وجہ کے معاملہ درج کیا جاتا ہے تو کیا مجھے خاموش بیٹھے رہنا چاہئے ؟ اس تعلق سے جب کاروار پولس انسپکٹر جی این موہن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس تعلق کسی بھی طرح کا تبصرہ کرنے سےانکار کردیا۔

خیال رہے کہ چکمنگلورکے ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ نے بیلگام میں اُس وقت خودکشی کی تھی جب ایک نوجوان تیجس گوڈا نے بسون ہلی پولس تھانہ پہنچ کر کلپا کے خلاف معاملہ درج کیا تھا کہ کلپّا نے دیگر پانچ لوگوں کے ساتھ اُس کا اغوا کیا تھا اور دس لاکھ روپیوں کا مطالبہ کیا تھا، تیجس گوڈا نے بتایا تھا کہ دس لاکھ کی خطیر رقم دینے کے بعد اُسے رہا کیاگیا ہے۔ میڈیا میں آئی ہوئی خبروں کے مطابق جیسے ہی یہ معاملہ ظاہر ہوا، کلپّا فرار ہوگیا تھا اور اگلے روز اُس نے خودکشی کی تھی۔ جبکہ مینگلورڈی وائی ایس پی ۔ ایم کے گنپتی کی خودکشی کے تعلق سے ابتدائی چھان بین سے پتہ چلا ہے کہ وہ گذشتہ دو ماہ سے نفسیاتی دباﺅ کا شکار تھا۔


Share: