ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / داعش کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی ضمانت مسترد، سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، گلزار اعظمی

داعش کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی ضمانت مسترد، سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، گلزار اعظمی

Wed, 16 Nov 2016 17:57:57    S.O. News Service

ممبئی16/ نومبر(ایس او نیوز/پریس ریلیز) ملک کی راجدھانی دہلی اور دیگر ر یاستوں سے دہشت گردی کے الزمات اور ممنوع دہشت گرد تنظیم داعش سے روابط رکھنے کے معاملے میں گرفتار کئے گئے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کو آج اس وقت شدید دھچکہ لگا جب دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ ۱۶؍ مسلم نوجوانوں کی ضمانت عرضداشت کو خارج کردیا ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔

گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس گیتا میتل اور جسٹس آر کے گوبا پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے ۱۶؍ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے تعلق سے عرضداشت داخل کی تھی جس پر گذشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے بحث جاری تھی لیکن آج عدالت نے اپنے زبانی حکم نامہ میں ضمانت عرضداشتوں کو مسترد کردیا جس سے ملزمین اور ان کے اہل خانہ کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ 

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے سی آر پی سی کی دفعہ 162(2)کے تحت ملزمین ابو انس، محمد افضل، محمد حسین خان، نجم الہدی، سہیل احمد، محمد علیم، آصف علی، سید مجاہد، مدبر مشتا ق شیخ، محمد عمران خان، محمدشریف معین الدین خان ، عدنان حسین ، محمد فرحان شیخ محمد عظیم الدین، محمد اسامہ، محمد اخلاق الرحمن، محمد معراج، محسن ابراہیم کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی گذارش کی تھی کیونکہ وقت مقررہ میں استغاثہ نے ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل نہیں کی تھی لیکن عدالت نے تکنیکی بنیادوں پر ملزمین کو ضمانت پر رہا نہیں کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی طرح دہلی ہائی کورٹ سے بہت امید تھی لیکن آج کا فیصلہ ان کی توقعات کے برخلاف آیا ہے نیز تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کے بعد وہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے اگلا لائحہ عمل تیار کریں گے ۔
 


Share: