پٹیالہ، 8 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )امرتسر میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے چار خواتین کی پیشانی پر ’جیب کتری ‘گدوانے کے واقعہ کے 23سال بعد سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے یہاں تین پولیس اہلکاروں کو مجرم ٹھہراتے ہوئے سزا دی ہے۔اس معاملے کی بڑے پیمانے پر مذمت ہوئی تھی۔سی بی آئی کے خصوصی جج بلجندر سنگھ نے کل سابق پولیس سپرنٹنڈنٹ سکھدیو سنگھ چنا اور رام باغ تھانے کے سابق انچارج سب انسپکٹر نریندر سنگھ ملی کو تین سال کی قیدبامشقت کی سزا دی ہے۔انہوں نے اے ایس آئی کنو ل جیت سنگھ کو بھی ایک سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔دسمبر 1993میں پیش آئے اس واقعہ کی وجہ سے پنجاب پولیس کی بڑے پیمانے تنقید ہوئی تھی تب امرتسر کے پولیس اہلکاروں نے عادی مجرم چار خواتین کی پیشانی پر’ جیب کتری ‘لفظ گدوا دئیے تھے جن پر ایک پرس چرانے کا الزام تھا۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب جیب کتری معاملہ کی سماعت کے دوران پولیس نے ان کی پیشانی کو دوپٹے سے چھپاکر انہیں عدالت میں پیش کیا۔ایک خاتون نے اپنے ماتھے پر گدے الفاظ کو عدالت کو دکھا دیا اور معاملہ سرخیوں میں آ گیا۔قومی انسان حقوق کمیشن نے بھی واقعہ کا سخت نوٹس لیاتھا ۔متاثرین نے 1994میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ایک مفادعامہ کی عرضی دائر کرکے مدعا علیہان، پنجاب حکومت، امرتسر پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر کو گدے ہوئے الفاظ کو ہٹانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانے کا انتظام کرنے، غیر انسانی کارروائیوں اور بے عزتی کرنے کے لیے معاوضہ دینے اور مجرم پولیس والوں پر کارروائی کے لیے ہدایات دینے کی اپیل کی تھی۔