بنگلورو،7؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے ریاست میں سنگین خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کو پوری طرح ناکام قرار دیا ۔ آج ریاستی اسمبلی میں خشک سالی کی صورتحال پر اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ضروری قدم اٹھانے کی بجائے حکومت کی طرف سے صرف افسران کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ ناکارہ افسران کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ریاست کے انتظامیہ کو سنبھالنے میں شٹر نے حکومت کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بے روزگاروں کو روزگار ، پینے کا پانی اور جانوروں کوچارہ مہیا کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے، انہوں نے خود یاگیر ، رائچور اور کوپل اضلاع کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ روزگار کی تلاش میں دیگر اضلاع کا رخ کررہے ہیں۔ خشک سالی کی صورتحال پر تحریک التواء پر بحث کی شروعات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات رکھی ۔اسپیکر نے اسے تحریک التواء کی بجائے ضابطہ 69 کے تحت بحث کرانے کی اجازت دی۔ اس کے بعد اپنی بحث شروع کرتے ہوئے شٹر نے حکومت کی مختلف ناکامیوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے چار سال کے دوران حکومت نے کسی بھی ناکارہ آفیسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خود سینئر کانگریس لیڈر سی کے جعفر شریف نے یہ سوال کیا ہے کہ ریاست میں حکومت ہے بھی یا نہیں۔ وزیراعلیٰ سدرامیا بھی اب اس انتظامیہ سے اس قدر بیزار آچکے ہیں ایک سال گزار کر وہ بھی اس سے دامن چھڑانا چاہتے ہیں۔ اسی لئے حکومت نے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ محنت کش ہاتھوں کو روزگار مہیا کرانے میں حکومت کی عدم دلچسپی برقرار ہے۔ وزیر دیہی ترقیات ایچ کے پاٹل اس معاملے میں صرف بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔وزیر اعلیٰ سدرامیا سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہاکہ وہ صرف بنگلور میں افسران کی میٹنگ کرلیں یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ جو افسران کام نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چار سال کے دوران ریاست میں 2406 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔کسانوں کی خود کشی کے معاملے میں مہاراشٹرا کے بعد کرناٹک دوسرے نمبر پر ہے۔ خود کشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کو معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ عہدیداران کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر مظلوم کسانوں کی مدد ٹال رہے ہیں۔ شٹر نے دعویٰ کیاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے پہلے سے کافی زیادہ معاوضہ کی رقم جاری کی گئی ہے، لیکن ماضی میں جو رقم دی گئی تھی اس کے استعمال کی سند مرکز کو نہ دئے جانے کے سبب یہ رقم اب تک ریاست کو مل نہیں پائی ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کی بجائے وزیر اعلیٰ سدرامیا اور دیگر ریاستی وزراء مرکز کے ساتھ ٹکراؤ کے رویہ پر اتر آئے ہیں۔