بنگلورو، 8؍ستمبر (ایس او نیوز) 21 ستمبر سے شروع ہونے والے ریاستی لجس لیچر اجلاس کے دوران بی جے پی حکومت کو گھیرنے کے لئے اپوزیشن کانگریس کی طرف سے 1200 سوالات پیش کئے گئے ہیں۔ یہ تمام سوالات تیار ہیں اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے یہ سوالات ریاستی اسمبلی اور کونسل کے سکریٹریٹ کو پیش کردیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے کہ وہ ان کے جواب دے۔
بتایا جا تا ہے کہ ان تمام سوالات کو تیار کرنے کے لئے سابق وزراء کی ایک ٹیم قائم کی گئی اور اس ٹیم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کا دفتر، چیف وہپ کا عملہ وغیرہ کام کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لیجیلیچر اجلاس میں حکومت کو جن معاملوں میں گھیرنے کی ضرورت ہے اس کے بارے میں پیر کے روز وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے اراکین اسمبلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کی۔ کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار، کونسل کے اپوزیشن لیڈر ایس آر پاٹل، وی ڈیش پانڈے وغیرہ بھی اس زوم کانفرنس کا حصہ رہے۔
اس موقع پر سدارامیا نے اراکین سے گزارش کی کیہ وہ ایوان کی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ریاستی حکومت کو تمام محاذوں پر ناکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیثیت اپوزیشن کانگریس کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام محاذوں پر حکومت کی ناکامی کو نشانہ بناکر عوام کے سامنے اس کی قلعی کھول دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ کووِڈ سے نپٹنے کے لئے آلات اور دواؤں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اس کو منظر عام پر لایا جا چکا ہے ایوان میں حکومت کو اس معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
ریاست میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راحت پہنچانے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا اور عوام اس کی وجہ سے مصیبت میں ہیں اس لئے اپوزیشن کے ممبران حکومت پر یہ دباؤ بنائے رکھیں کہ جلد از جلد عوام کو راحت فراہم کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے ضروری قدم اٹھائے جاسکیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست کو واجب الادا جی ایس ٹی کی رقم دینے سے انکار اور اس پر ریاستی حکومت کی خاموشی پر سدارامیا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اپنے اس روئے سے ملک کے وفاقی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن افسوس کہ اس پر اپنا احتجاج درج کروانے کی بجائے ریاستی حکومت نے ریاست کے مفادات کا سودا کرلیا ہے۔
ریاست سے منتخب 25 بی جے پی اراکین پارلیمان ابھی اس معاملے میں کرناٹک کے مفادات کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے انتظامیہ میں کرپشن تمام حدوں سے متجاوز ہوچکا ہے۔ اراکین اسمبلی کو ان حلقوں کا ترقیاتی فنڈ نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود بی جے پی کے اراکین اسمبلی کو اپنے حلقوں کے لئے گرانٹ منظور کروانے کے لئے رشوت دینی پڑ رہی ہے۔ اس زوم میٹنگ میں سی ایل پی کے سکریٹری توکارام، کانگریس کے چیف وہپ اجئے سنگھ، کونسل کے چیف وہپ، نارائن سوامی وغیرہ موجود تھے۔