نئی دہلی ، 15؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے جے پی ایسوسی ایٹس لمیٹڈ (جے اے ایل)کو راحت دیتے ہوئے 125 کروڑ روپے جمع کرانے کے لئے 25 جنوری تک کا وقت دے دیا ہے۔اس سے پہلے عدالت نے 31دسمبر تک یہ روپے سپریم کورٹ کی رجسٹری میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔حکم کے تحت 14 دسمبر تک 150 کروڑ روپے جمع کرانے تھے جو کمپنی نے جمع کرا دیئے تھے۔جے پرکاش ایسوسی ایٹس لمیٹڈ ابھی تک عدالت کی رجسٹری میں 425کروڑ روپے جمع کرا چکی ہے اور آنے والے 31دسمبر تک125کروڑ روپے اور جمع کرانے تھے۔یہ کمپنی اس کے لیے دو ماہ کا وقت چاہتی تھی۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر احکامات پر عمل نہیں کیا گیا تو یہ کورٹ کی توہین ہوگی ۔معاملے کی اگلی سماعت ایک فروری کوہوگی۔ پچھلی سماعت میں سرمایہ کاروں کی رقم کو دوسرے پروجیکٹو ں میں لگانے اور فلیٹ کی بروقت الاٹمنٹ نہ کرنے کے معاملے میں پھنسے جے پی ایسوسی ایٹس کے ڈائریکٹرز کے جائیداد فروخت پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔عدالت نے گروپ کو 14 دسمبر کو 150 کروڑ روپے اور 31 دسمبر کو 125 کروڑ روپے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔اس کے ساتھ ہی جے پی ایسوسی ایٹس کی جانب سے جمع کرائی گئی 275کروڑ روپے کی رقم کو قبول کر لیا تھا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی تین رکنی بنچ نے تمام 13ڈائریکٹرز ذاتی ملکیت کو فریج کر لیا ہے۔عدالت کے حکم کے بغیر یہ لوگ اپنی جائیداد فروخت نہیں کرسکیں گے۔یہی نہیں ڈائریکٹرز کے خاندانی رکن بھی اپنی جائیداد فروخت نہیں کرسکیں گے عدالت نے 13 جنوری کو اجازت کے بغیر جے پی انفراٹیک لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹرزکے بیرون ملک دورے پر بھی روک لگا دی تھی۔کورٹ نے جے پی انفراٹیک لمیٹڈ کو اپنا سارا ریکارڈ آخری ریزولیوشن ماہرین کو سونپنے کا حکم دیا تھا۔