کاروار 16؍دسمبر(ایس او نیوز)مرکزی وزیر مملکت اننت کمار نے جیل بھرو تحریک کا اعلان تو کیا ہے مگرکمٹہ میں خود بی جے پی کے حلقوں میں لوگ اس بات پر چہ میگوئیاں کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اس احتجاج میں شامل ہونے کے لئے کتنے لوگ تیار ہونگے اور کہاں سے آئیں گے۔
پریش میستا کی موت پر زبردست مظاہرے کے دوران کمٹہ میں جو فساد برپا ہوااور آئی جی پی نمباولکرکی کار تک نذر آتش کی گئی تھی اس سے پولیس اور مظاہرین کے بیچ ٹکراؤ کی صورت پید اہوگئی تھی ۔ جس کے بعد پولیس نے 72 افراد پر قتل کی کوشش کے الزام میں دفعہ 307کا مقدمہ درج کردیا ہے۔ان میں سے 20افراد گرفتار بھی ہوچکے ہیں اور کاروار جیل میں بند ہیں۔بقیہ ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ ملزمین کی اس فہرست میں کمٹہ کے بی جے پی اورسنگھ پریوار کے لیڈروں کے نام شامل ہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ ملزمین میں آئندہ اسمبلی ٹکٹ کے متوقع امیدوار دینکر شیٹی، سورج نائک، کمار مارکنڈے وغیرہ کے نام بھی شامل ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ یہ سب لیڈران گرفتاری کی صورت میں کم کچھ مہینوں تک جیل میں بند رہنے کے ڈر سے زیر زمین ہوگئے ہیں۔جبکہ احتجاجی مظاہرے میں زبردست ہجوم کو دیکھ کر انہی لیڈروں پر جنون سوارہوگیا تھا اوروہ بھیڑ کو مزید مشتعل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ گویا ٹکٹ مل گئی تو بس وہی ایم ایل اے بن جائیں گے۔
لیکن پتھراؤ سے شروع ہونے والا فساد پولیس کے اعلیٰ افسر کی گاڑی نذر آتش تک پہنچا اور پھر لاٹھی چارج پر اختتام پزیر ہوا۔ اب اس کے بعد قانونی کارروائیاں شروع ہوگئیں تو جو لوگ بھی جیل کے اندر بند ہوگئے ہیں ان کے گھر والے حیران و پریشان ہیں۔جولوگ باہر ہیں وہ گرفتاری کے ڈر سے اپنے گھر وں سے غائب ہوگئے ہیں۔اور پولیس سے بچنے کے لئے یہاں وہاں چھپتے چھپاتے پھر رہے ہیں۔اس موقع پر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ خون بہانے کے لئے خود کو تیار کہلانے والے بی جے پی ہو یا سنگھ پریوار کے لیڈر ان پولیس کے نشانے پر آنے والوں کی کوئی مدد نہیں کررہے ہیں۔ہر کسی کو اب اپنی حفاظت اور پولیس سے بچاؤ کی فکر لگی ہوئی ہے۔ہر کوئی بس یہ چاہتا ہے کہ پولیس کسی بھی معاملے میں اس کو ملوث نہ کردے۔اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات دو تین دن قبل اس وقت سامنے آئی جب جنوبی کینرا کے رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل بی جے پی کے دفتر میں پریس کانفرنس کرنے کے لئے کمٹہ پہنچ گئے ۔ مگر دفتر کی چابیاں جس شخص کے پاس تھیں وہی پولیس کے ڈر سے لاپتہ پایا گیا۔ بالآخر ایک نجی ہوٹل میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔
ایک او رسوال بی جے پی کے بعض رضاکار پوچھ رہے ہیں کہ جیل بھرو احتجاج کی آواز لگانے والے اننت کمارہیگڈے کیا خود بھی آگے بڑھ کر گرفتاری دیتے ہوئے جیل جائیں گے یا کمٹہ احتجاج کے دن اور اس کے دوسرے دن بھی سرسی میں موجود رہنے کے باوجود جس طرح وہ پردے کے پیچھے تھے اسی طرح دوسروں کو جیل بھرنے کا موقع دیتے ہوئے خود کہیں لاپتہ ہو جائیں گے؟یا پھر ہوسکتا ہے کہ رکن اسمبلی وشویشور کاگیری کی طرح برائے نام ایک مقدمہ اپنے نام درج کروانے کے بعد ہیرو بن جائیں!