نئی دہلی ،13؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک خصوصی عدالت نے جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ مدھو کوڑااورسابق کوئلہ سکریٹری ایچ سی گپتا کو کوئلہ گھوٹالہ معاملے میں بدعنوانی اور دیگر الزامات کا آج مجرم ٹھہرایا۔خصوصی سی بی آئی جج بھرت پراشر نے جھارکھنڈ کے سابق سیکرٹری اے کے باسواور نجی کمپنی ونی آئرن اور اسٹیل صنعت لمیٹڈ (وی آئی ایس یو ایل )سمیت کوڑا، گپتا اور دیگر ملزمان کو مجرمانہ سازش سمیت مختلف جرائم میں مجرم ٹھہرایا۔یہ معاملہ جھارکھنڈ میں راجہرا نارتھ کوئلہ بلاک آونٹن کولکاتہ واقع وی آئی ایس یو ایل کو دینے میں بے ضابطگیوں سے منسلک ہے۔عدالت سزاکولے کردلیلیں کل سماعت کرے گی۔وی آئی ایس یو ایل کے ڈائریکٹرویبھوتلسیان اور دو سرکاری ملازمین بسنت کمار بھٹاچاریہ اور بپن بہاری سنگھ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نوین کمار تلسیان کو عدالت نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔عدالت نے تعزیرات ہند کی دفعہ 120-B(مجرمانہ سازش)کے ساتھ دفعہ 420 (دھوکہ دہی)اور دفعہ( 409)(عوام خادم کی طرف سے مجرمانہ غداری) اور اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعات کے تحت مبینہ جرائم کا نوٹس لیا تھا۔اس کے بعد ان تمام لوگوں کو بطور ملزم سمن بھیجا گیا۔سی بی آئی نے الزام لگایا کہ کمپنی نے آٹھ جنوری 2007 کو راجہرا نارتھ کوئلہ بلاک کے الاٹمنٹ کے لئے درخواست دی تھی۔اس نے کہا کہ جھارکھنڈ حکومت اور اسٹیل وزارت نے وی آئی ایس یو ایل کو کوئلہ بلاک آونٹن کرنے کی سفارش نہیں کی تھی اس کے باوجود 36ویں اسکریننگ کمیٹی نے ملزم کمپنی کو بلاک کا آونٹن کرنے کی سفارش کی۔سی بی آئی نے کہا کہ اسکریننگ کمیٹی کے اس وقت کے چیئرمین گپتا نے یہ حقیقت اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے چھپائی تھی کہ جھارکھنڈ حکومت نے وی آئی ایس یو ایل کو کوئلہ بلاک آؤنٹن کرنے کی سفارش نہیں کی ہے۔اس وقت کوئلہ وزارت کا چارج منموہن سنگھ کے پاس ہی تھا۔