ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جمعیۃعلماء ہند کے ذریعہ شمالی گجرات کے سیلاب متاثرین کے لیے قابل تحسین فیصلہ، سردست313؍مکانات کی مرمت،  20؍ مکانات کی تعمیر کا فیصلہ

جمعیۃعلماء ہند کے ذریعہ شمالی گجرات کے سیلاب متاثرین کے لیے قابل تحسین فیصلہ، سردست313؍مکانات کی مرمت،  20؍ مکانات کی تعمیر کا فیصلہ

Wed, 09 Aug 2017 21:57:18    S.O. News Service

پالن پور گجرات 9/ اگست (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) ۲۴؍ جولائی 2017/ کو ہونے والی زبردست سیلابی بارش کے  نتیجے میں  دھانیرا نامی مقام جو بناس کانٹھا ضلع کی ایک تحصیل ہے میں زبردست تباہی برپا ہوئی تھی، اس سیلاب نے پورے دھانیرہ کی معیشت کے ساتھ چھوٹے موٹے کاروبار والوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا، اسی طرح سینکڑوں مکانات متاثرہوئے  جبکہ پچاسوں مکانات مکمل طور پر منہدم ہوگئے ۔سیلاب نے سینکڑوں مکانات کے سازوسامان کو بہا لے گیا تو کم وبیش یہ سیلاب ڈیڑھ سو افراد اور ہزاروں جانوروں کی ہلاکت کا سبب بنا۔

 اس مصیبت کی گھڑی میں ملک کی قدیم ومنظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے فوری طور پر راحت کاری کاکام شروع کیا ۔بارش بند ہونے کے بعد فوری طور پر صفائی مہم چلا کرساڑھے پانچ ہزارسے زائد کارکنان نے پورے دھانیرہ میں دن رات ایک کر کے مکانات ،مساجد،منادر،اسپتال، نگر پالیکاوغیرہ میں بھرے پانچ سات فٹ تک کے کیچڑوں کو انتہائی انہماک اور اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر رضائے الٰہی کی خاطر صاف کیا ۔اسی کے ساتھ سینکڑوں افراد کی ٹیم نے راشن کٹ اور ضروریات زندگی کے سازوسامان فراہم کرنے میں انتھک کوشسیں کیں، جس کے سب انتہائی منظم انداز میں پچاس سے زائد ٹرک اشیاء خورد ونوش اور دیگر ضروریات کے سامان متاثرین تک پہنچائے گئے،اس کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی مختلف یونٹوں نے مرکز کی خصوصی ہدایت پر اپنے اپنے علاقوں میں نقد رقومات جمع کراکر پہنچایا،اب تک کم وبیش اسی لاکھ روپئے کے سامان کی تقسیم جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹیم نے جمعیۃ علماء بناس کانٹھا کے صدر مولانا عبدالقدوس پالن پوری اور مرکزی سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی رہنمائی اورجمعیۃ کے مرکزی آرگنائزر مولانا ابوالحسن سیوانی کی نگرانی میں متاثرہ علاقوں میں جہاں جہاں تک پہنچانے کی سبیلیں میسر ہوئیں پوری کوشس کر کے پہنچایا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری دامت برکاتہم کی سربراہی میں حضرت مولانا سید محمود مدنی کی ہدایات کے مطابق مرکزی سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں مرکزی ٹیم دھانیرا میں مقیم ہے جس میں مولانا ابوالحسن سیوانی ،مولانا شفیق احمد القاسمی مالیگانوی(آرگنائزرس جمعیۃ علماء ہند) شامل ہیں،ریلیف وراحت کاری و صفائی مہم کے دوران کسی طرح کا کوئی بھید بھاؤ نہ کرکے مانوتا کو سامنے رکھتے ہوئے ہر چھوٹے بڑے کارکن نے اپنی خدمات انجام دی،اس طرح کا اظہار خیال عتیق الرحمن قریشی (جنرل سیکریٹری ضلع بناس کانٹھا)نے آج جمعیۃ علماء کے منعقدہ ایک تقریب میں نظامت کرتے ہوئے کیا۔

دھانیرا بناس کانٹھا ضلع میں ابتدائی راحت رسانی کاموں کے ساتھ ساتھ فوری راحت کاری کے کاموں میں پیش رفت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے بازآبادکاری کا فیصلہ لیا، جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا سید محمود اسعد مدنی کی رہنمائی و ایماء پر آج ۹؍ اگست ۲۰۱۷ء ؁ بروز بدھ دوپہر ایک بجے چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کا روزگار شروع کرنے کے لئے پندرہ لاریوں کی تقسیم مع سامان کے کی گئی اس مجلس کی صدارت مولانا عبدالقدوس پالنپوری نے کی ۔اپنے خطبہ صدارت میں موصوف نے امن ومانوتہ کا پیغام دیتے ہوئے سب کو مل جل کر رہنے اور کام کرنے پیغام ساتھ ہی مصیبت کے موقعوں پر بنا کسی بھید بھاؤ کے انسانیت کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی ترغیب دیاانہوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھیوں کے سروے کے مطابق جو کہ ابھی نامکمل ہے پوری تحصیل کا سروے اب تک ممکن نہ ہو سکا اس لئے کہ اب بھی بہت سارے مقامات اور دیہات ہیں جہاں راستے مسدود ہیں اور وہاں تک پہنچ پانا مشکل ہے بڑی مشکلوں سے اشیاء خوردونوش پہنچایا گیا لیکن مستقل کام کرنا ابھی آسان نہیں ہوا ہے۔بجلی اور موبائیل ٹاور بھی کام نہیں کر رہے ہیں پانی کی سپلائی ممکن نہ ہو سکی ہے۔چنانچہ شہر دھانیرا کے سروے کو سامنے رکھتے ہوئے یہا ں چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد میں پہلے مرحلے میں ۷۴؍ افراد کا انتخاب کیا گیا ہے کہ جنہیں ہاتھ گاڑیاں مع سازوسامان اور ترازوکے فراہم کی جائیں تو یہ فور ی طو ر پر اپنے روزگار کو شروع کردیں گے چنانچہ اسی جگہ پندرہ افراد کو مع سامان یعنی جو جس کاروبار سے منسلک تھا اسے اس سامان مطلب سبزی فروش کو گاڑی کے ساتھ سبز ی، پھل فروش کو کیلا وفروٹ، پان والے کو پان کا سامان، انڈے والوں کو انڈوں کے ساتھ، پیاز والوں کو پیاز کے ساتھ، لہسن والوں کو لہسن کے ساتھ، چنے وا لوں کو چنے و سینگ دانے کے ساتھ گاڑیاں مع ترازو کے تقسیم کی گئیں، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا غلام نبی قادری امام مسجد قریش و ناظم مدرسہ گلشن اجمیر نے خطاب کر تے ہو ئے فرمایا کہ انسانیت کی خدمت آقا ﷺ کا مشن رہا ہے۔ہمارے یہاں آئی مصیبت کے موقع پران علماء کرام نے دہلی اور پالن پور سے یہاں پہنچ کر اپنے قدیم ذمہ دار ساتھیوں کی مدد سے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ تاریخ میں سنہرا حصہ بن گیا ہے۔کانتی لال جوشی پجاری ستی مارہ مندر،پریم شنکر پجاری ہنومان مندر نگر پالیگا دھانیرہ نے بھی اپنی تقریروں میں جمعےۃ کے کاموں کو خوب سراہتے ہوئے یہ وعدہ کیا کہ ہم ہر موقع پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اسی طرح تعاون کریں گے جس طرح انہوں نے آج اس مصیبت کے موقع پر ہمارے ساتھ بلکہ ہم سے آگے بڑھ کر ہمارے مکانات، مندروں اور راستوں کی صفائی کیا ہے ۔جبکہ اس کام کی جن کی ذمہ داری ہے وہ بھی ان دنوں آگے آنے میں جھجھک محسوس کر رہے تھے۔

اس موقع پر مرکزی سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے انسانیت کے تئیں جمعیۃ  علماء ہند کے پیغام اور امدادوراحت رسانی کے کاموں کے شروع کرنے اور اب تک کے تمام جائزے کو پیش کیا ساتھ ہی اس دورے کے دوران پیش آئے قومی ایکتا کے کئی واقعات کی مثالیں بھی بتائیں، مولانا نے بتایا کہ سروے کے مطابق فوری طور پر ۳۱۳؍ مکانات کی مرمت کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔اسی کے ساتھ مکمل ختم ہوئے بیس مکانات کی از سرنوتعمیر بھی شروع کی جارہی ہے۔دونوں پجاریوں اور ان علماء کرام کے ہاتھوں بنیاد رکھ کر کے دعا کی گئی، اس موقع پر موبائیل ڈسپنری کا آغاز اطراف کے دیہاتوں کے لئے شروع کیا گیا واضح ہوکہ اول روز سے ہی جمعیۃ کی جانب سے میڈیکل کیمپ بھی جاری تھا جہاں روزانہ ایک ہزار سے پندرہ سو افراد کو دوائیں دی گئیں، اب شہر کے میڈیکل کیمپ کو موبائیل ڈسپنسری میں تبدیل کر کے اطراف کے دیہاتوں میں میڈیکل خدمات کا آغازکیا گیا۔دھانیرا کے اس پروگرام میں مختلف مکتب فکر اور مذاہب کے نمائندے شریک ہو ئے،صدر مجلس نے تمام کارکنان و معاونین کا شکر یہ ادا کیا۔

تلاوت کلام پاک و نعت پاک سے اس پروگرام کا آغاز ہوایہ پروگرام محمود بھائی کے کمپاؤنڈ سرسوتی پرائمری اسکول کے پاس جونی اسٹیٹ بینک روڈ دھانیرا میں ہو ا۔پروگرام میں جمعیۃ علماء ریلیف کمیٹی دھانیرا کے کنوینرمحمود بھائی سندھی واچھول والے، نذیر بھائی شیخ، رفیق بھائی، محمد عار ف رضا، مولانا اشرف نولواس،مولانا نذیر کالیڑا،مولانا فاروق علی گنج پور،مجیب الرحمن علی گنج پور، مولوی حبیب الرحمن،جابر بھائی حسن پور ، عمران بھائی گولا، مولوی عمران،حبیب بھائی پٹھان، مولانا ذکرالرذحمن تھور،نعمت اللہ بھائی تھور، مولانا حفظ الرحمن تھور، یسین بھائی تھور، مولانا یونس نوواسی،مولانا عبدالوہاب،شہاب الدین حسن پور،مولانا ادریس علی گنج پور،عبدالحق بھائی چوائس، مولانا شفیق احمد القاسمی سمیت دیگر مقامی ذمہ داران اور متاثرین حاضر تھے۔


Share: