ممبئی ،14؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر کیس کی سماعت کر رہے جسٹس لویا کی موت سوالوں کے گھیرے میں ہے اور اس پر سیاست بھی ہو رہی ہے۔ اس کیس کو لے کر سپریم کورٹ میں سماعت بھی ہونے والی ہے۔ دریں اثناء اتوار کو ممبئی میں جسٹس لویا کے بیٹے انوج لویا نے میڈیا کے سامنے آکر بیان دیا ہے کہ اب اُن کے گھروالوں کو جسٹس لویا کی موت پر کسی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہے، لہٰذا اُنہیں اور ان کے گھروالوں کو پریشان نہ کیا جائے ۔
انوج کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے وکیل نے کہا کہ جسٹس لویا کی موت کو لے کر خاندان کو کوئی شک نہیں ہے. بہت سے لوگ اس بارے میں خاندان کو پریشان کر رہے ہیں. وکیل اور این جی او خاندان کو پریشان کرنا بند کریں۔ انوج کے وکیل نے کہا کہ اس مسئلے کو کسی بھی طرح کے تنازعہ میں نہ گھسیٹا جائے اور نہ ہی اس پر کوئی سیاست ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو کوئی شک نہ ہو اس لئے انوج میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ وہیں انوج نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں کوئی شک نہیں ہے لہذا کسی طرح کی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ۔ انوج نے کہا کہ والد کی موت کے وقت میں اُن کی عمر 17 سال تھی اور اُنہیں زیادہ کچھ پتہ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ انوج لویا کا یہ بیان ٹھیک اُس وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے جسٹس لویا کی موت کی جانچ کی مانگ والی درخواست ( پیٹیشن) کی سنوائی کرتے ہوئے مہاراشٹرا سرکار کو پوسٹ مارٹم رپورٹ سونپنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی سنوائی منگل کو ہونے کی اُمید ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چار سنئیر ججوں نے سوال اُٹھاتے ہوئے جسٹس لویا معاملے کا بھی ذکر کیا تھا، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس معاملے کو جسٹس ارون مشرا کی بینچ کو ریفر کیا تھا ، جس پر چار ججوں نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں اس کیس کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کیس کی نامزدگی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس لویا سی بی آئی کے خصوصی عدالت میں سہراب الدین انکائونٹر کیس کو دیکھ رہے تھے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں موجودہ بی جے پی صدر امیت شاہ سمیت گجرات کے کئی بڑے آفسران نامزد تھے۔ اس معاملے میں جسٹس لویا کی موت کے بعد امیت شاہ کیس سے بری قرار دئے گئے۔ ڈسمبر 2014 کو ناگپور میں جسٹس لویا کی موت ہوگئی تھی، اُس وقت بتایا گیا تھا کہ اُن کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ حالانکہ اُن کی موت کو لے کر سوالات اُٹھے تھے۔ اور اُن کی موت کے بعد آن لائن میڈیا کاروان نے جن حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے، اُس سے ملک کے عوام کو بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا ہے۔
جسٹس لویا کی موت کو لے کر سپریم کورٹ کی وکیل انیتا شینوئی نے پبلک انٹرسٹ پیٹیشن دائر کیا تھا۔ درخواست دہندگان نے اپنی درخواست میں جسٹس لویا کی موت کی منصفانہ تحقیق کا مطالبہ کیا . اس مطالبہ کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو پوسٹ مارٹم رپورٹ سونپنے کا حکم دیا ، جس پر منگل کو سنوائی ہونے کی توقع ہے۔
خیال رہے کہ سہراب الدین کیس کے ٹرائل کو سپریم کورٹ نے 2012 میں مہاراشٹرا منتقل کردیا تھا اور 2013 ء میں سپریم کورٹ نے پرجاپتی اور شیخ کے کیس کو ایک ساتھ جوڑ دیا. ابتداء میں جج جیٹی اُتپت کیس کی سنوائی کر رہے تھے لیکن ملزم امیت شاہ کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کرنے پر اچانک ان کی تبادلہ کر دیا گیا. پھر کیس کی سماعت جج بی ایچ لویا نے کی۔ مگر جس وقت امت شاہ کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا، اُس سے ایک روز قبل یعنی نومبر 2014 کو ناگپور میں ان کی موت واقع ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔
اب جسٹس لویا نے پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے جو بیان دیا ہے، اُس پر اب عوام سوالات اُٹھارہے ہیں کہ آیا انہوں نے جو بیان دیا ہے وہ اپنی اور اپنے گھروالوں کی مرضی سے دیا ہے یا کسی کی طرف سے زبردستی کرائی گئی ہے اور جبراً اس طرح کا بیان دلوایا گیا ہے ؟