ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جامعہ کے طالب علموں کی درخواست پر عدالت نے مرکز، عآپ اور پولیس سے مانگا جواب 

جامعہ کے طالب علموں کی درخواست پر عدالت نے مرکز، عآپ اور پولیس سے مانگا جواب 

Mon, 17 Feb 2020 18:14:33    S.O. News Service

نئی دہلی،17/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی لائبریری میں گھس کر کی گئی پولس کی مارپیٹ  کو لے کر  زخمی ایک طالب علم کے معاوضہ کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو مرکز، عآپ حکومت اور پولیس سے جواب مانگا ہے۔چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے طالب علم کی درخواست پر تینوں کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے۔ پٹیشن میں طالب علم نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے اس کی دونوں ٹانگیں توڑ دیں۔اس کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی کے وقت وہ یونیورسٹی کی لائبریری میں پڑھ رہا تھا۔شایان مجیب نے ایڈووکیٹ نبیلہ حسن کے ذریعے یہ اپیل دائر کروائی ہے۔اس میں اس نے کہا ہے کہ تشدد میں زخمی ہونے کے بعد سے علاج میں وہ اب تک دو لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔اس سے پہلے ایک اور طالب علم محمد منہاج الدین نے عرضی دائر کرکے واقعے کی تحقیقات کروانے اور واقعہ میں زخمی ہونے کے بعد علاج میں آئے خرچ کے بدلے میں معاوضے کی مانگ کی تھی۔منہاج الدین نے درخواست میں کہا کہ اس معاملے میں اس کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی۔گزشتہ سال 15 دسمبر کو جامعہ کے قریب سی اے اے کے خلاف مظاہرہ پرتشدد ہو گیا تھا۔کچھ لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا اور سرکاری بسوں اور نجی گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔بعد میں پولیس جامعہ احاطے میں گھس کر  آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور طالب علموں پر لاٹھی چارج کیا تھا۔

خیال رہےکہ پولیس کی کارروائی میں درخواست گزاروں سمیت کئی طالب علم زخمی ہو گئے تھے۔


Share: