بھٹکل 4/ اکتوبر (ایس او نیوز) جالی پٹن پنچایت کے صدارتی انتخابات میں تنظیم کے حمایتی ممبر عمران لنکا کی شکست اور باغی ممبر عبدالرحیم کی جیت پر معاملہ دن بدن گرماتا ہوا نظر آرہا ہے اور لوگ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تنظیم سے پرزور مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔
بتایا گیا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آج منگل صبح تنطیم انتظامیہ کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی تھی ، جس وقت اندر میٹنگ جاری تھی، نوجوان میٹنگ ہال کے باہر جمع ہوئے اور تنظیم صدر سے بات کرنے کی اجازت چاہی۔ جس کو دیکھتے ہوئے ابتدائ میں تنظیم صدر جناب مزمل قاضیا نے نوجوانوں سے درخواست کی کہ دو یا چار لوگ ہی بات کریں اور اپنی بات شائستگی کے ساتھ پیش کریں۔ اس موقع پر نوجوانوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک نوجوان نے بتایا کہ بہت سے مسائل ایسے ہیں جن میں تنظیم کے فیصلے کمزور ثابت ہوئےہیں۔ اُس نے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے، تنظیم کے فیصلوں کی بار بار خلاف ورزی کیوں ہورہی ہے ؟ اس تعلق سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں ؟ اس موقع پر نوجوان نے فوری طور پر عام اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ایک اور نوجوان نے بتایا کہ حال ہی میں میونسپالٹی انتخابات میں تنطیم کی حمایتی اُمیدوار ڈاکٹر ایس ایم سید سلیم کے مقابلے میں شاہزیر نامی نوجوان کھڑا ہوا تھا، اسی طرح کے ایم اشفاق کے مقابلے میں مقبول نامی نوجوان کھڑا ہوا تھا، نوجوان نے سوال کیا کہ اس تعلق سے تنطیم نے کیا اقدامات کئے ؟ اس نوجوان کے مطابق اگر تنطیم اُسی وقت سخت فیصلے لیتی تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی کہ تنظیم کا حمایتی اُمیدوار ہی باغی بنتا اور تنطیم کے اُمیدوار کے خلاف جیت درج کرتا۔
نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو بھٹکل کے مختلف اسپورٹس سینٹروں سے تعلق رکھتے تھے، نے تنظیم کے وقار کو بار بار مجروح کئے جانے والے واقعات پیش آنے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ فوری عام اجلاس طلب کیا جائے تنظیم صدر نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کی جاری میٹنگ میں اس بات پر چرچا ہورہا ہے اور اسی میٹنگ میں عام اجلاس کےتعلق سے بات کی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی بات پیش کرچکے ہیں، لہٰذا اب میٹنگ ہال سے باہرچلے جائیں۔ اس سے پہلے کہ لوگ باہر چلے جاتے، کسی بات پر اچانک کچھ نوجوان ہنگامہ پر اُتر آئے، کافی دیر تک ہنگامہ خیزی جاری رہی۔ اس موقع پر بار بار صدر صاحب نے میٹنگ کو برخواست کئے جانے کی وارننگ دی، مگر نوجوان اس بات پر مصر تھے کہ اُنہیں اسی وقت فیصلہ سنایا جائے کہ عام اجلاس کب طلب کریں گے۔ کافی دیر بعد جناب مزمل قاضیا صاحب نے کافی کوششوں کے بعد نوجوانوں کو سمجھا بجھا کر باہر جانے پر راضی کرلیا۔
میٹنگ ہال سے باہر نکلنے کے بعد ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوانوں نے بتایا کہ تنظیم کی حالیہ انتظامیہ ناکارہ ہوچکی ہے، یہاں سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اپنی اپنی پارٹیوں کے لئے کام کررہے ہیں جس سے قوم وملت کے مسائل پس پشت جارہے ہیں۔ کچھ نوجوانوں نے جوش میں آکر کہا کہ عرصے سے گدی سنبھالے ہوئے عمر رسیدہ لوگ جگہ خالی کریں اور جو ناکارہ اور نااہل ہیں، وہ باہر نکلیں۔ کچھ نوجوانوں نے الزام لگایا کہ تنظیم کے کچھ عہدیداران اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے خاطر ملت کے مفاد کو بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ کسی بھی حال میں تنظیم کو اپنا وقار بحال رکھنا ہے۔
جائزہ کمیٹی : خبر ملی ہے کہ تنظیم کی آج کی ہنگامی انتظامیہ میٹنگ میں ایک سات رکنی جائزہ کمیٹی ترتیب دی گئی ہے جو پنچایت انتخابات میں تنطیم اُمیدوار کی شکست کاپوری طرح سے جائزہ لے گی اورپندرہ دنوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے فوری بعد عام اجلاس طلب کیا جائے گا۔ اس خبر کی تصدیق کے لئے اور میٹنگ کے حوالے سے مزید جانکاری کے لئے ساحل آن لائن نے تنطیم کے صدر اور جنرل سکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر دونوں سے رابطہ نہ ہوسکا۔