ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تین طلاق پر مرکزی حکومت کا مجوزہ قانون دستور ہند اور اور شریعت کے خلاف 

تین طلاق پر مرکزی حکومت کا مجوزہ قانون دستور ہند اور اور شریعت کے خلاف 

Sun, 31 Dec 2017 00:04:20    S.O. News Service

ناکردہ جرم کی سزاکیسی ،جماعت اسلامی ہندنے بھی آوازاٹھائی،خواتین مخالف قراردے کرمستردکیا
نئی دہلی،30؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) تین طلاق سے متعلق مرکزی حکومت کے لوک سبھا میں منظور شدہ قانون(مسلم شادی شدہ خواتین کے حقوق کا تحفظ)بل ۲۰۱۷ غیر ضروری ،خلاف شریعت اور خواتین کے حقوق اور مفادات کے خلاف ہے،جس میں بیک وقت تین طلاق دینے والے مرد کے لیے تین سال کی قید اور جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم نے میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے بیان میں جماعت کے مذکورہ موقف کا اظہار کیا ہے۔سکریٹری جنرل نے فرمایا کہ یہ بل نہ صرف دستور ہند کی مذہبی آزادی کی دفعہ25 سے متصادم ہے بلکہ تین طلاق سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بھی خلاف ہے۔بظاہر بل کے لانے کامقصد مطلقہ خواتین کے حقوق کا تحفظ بتایا گیا ہے،لیکن جب تین طلاق واقع ہی نہیں ہوگی تو پھر سزا کیوں کر دی جاسکتی ہے۔پھربل کی دفعہ5 میں کہا گیا ہے کہ طلاق دینے والا مرد اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کا بھی ذمہ دار ہوگا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مرد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کی کفالت کرسکے گا۔مزید برآں تین سال کی سزا کاٹ کر آنے والے مردسے یہ توقع کیسے کی جاسکے گی کہ وہ بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار سکے گا۔آپ نے کہا کہ حکومت قانون شریعت سے متعلق بل لارہی ہے لیکن اس نے اسلامی شریعت کے ماہر اسکالرس،علماء،دینی وملی تنظیموں اور مسلم خواتین کی نمائندہ تنظیموں سے مشورہ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اس طرح کے کسی بل کی قطعاً کوئی ضرورت اور گنجائش نہیں ہے۔ اس کے علاہ ماہرین قانون کے مطابق موجودہ بل دستور کی متعدد دفعات 14،15 اور 25 کے بھی خلاف ہے۔اپنے بیان کے آخر میں انجینئر محمد سلیم صاحب نے حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ شریعت میں مداخلت نہ کرے اور اس بل کو آگے نہ بڑھائے۔آپ نے لوک سبھا میں بعض اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اس بل کی تائید پر افسوس کا اظہار کیا اور ان سے اپیل کی کہ اگر یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جاتا ہے تو اس کی کھل کع مخالفت کی جائے۔تین طلاق بل کی منظوری کے مجرم پارلیمنٹ سے غائب رہنے والے علماء بھی ہیں۔


Share: