نئی دہلی،2؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس اس متنازعہ بل پر اپنا رخ طے کرنے سے پہلے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کرے گی جس میں ایک ساتھ تین طلاق کو محدود کرنے اور اسے سنگین جرم کے زمرے میں لانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مسلم خواتین گزشتہ ہفتے لوک سبھا میں پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے اور اسے آج راجیہ سبھا میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایوان بالا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں بل پیش کئے جانے سے پہلے اپنی پارٹی کے لیڈروں اور دیگر پارٹی کے لیڈروں کی کل پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں ایک میٹنگ بلائی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کانگریس بل کے حق میں ہے کیونکہ اس میں ایک ساتھ تین طلاق پر روک لگانے کی تجویز ہے لیکن کیا وہ اس کو کمیٹی کو بھیجنے کے لئے دباؤ ڈالے گی یا نہیں یہ کل ہی پتہ چلے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی بل میں ترمیم کے لئے زور ڈال سکتی ہے ۔ دریں اثنا ایک ساتھ تین طلاق کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھارتی مسلم مہیلا آندولن نے ممبران پارلیمنٹ کو خط لکھ کر بل میں طلاق دینے کے طریقے طلاق حسن کو شامل کرنے کامطالبہ کیاہے جس میں ہے اور یہ طلاق کے عمل کو شروع ہونے سے پہلے کم از کم 90 دن تک چلتی ہے۔