بنگلورو،4؍اکتوبر(ایس اونیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے تملناڈو کو روزانہ چھ ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے پر آمادگی کے خلاف کسانوں میں مایوسی کی لہر چل پڑی ہے۔ کل ریاستی لیجسلیچر میں اس ضمن میں منظور شدہ قرار داد کے بعد احتیاطی طور پر کاویری طاس کے علاقوں میں معقول پولیس بندوبست کردیاگیا اور آبی ذخائر پر سیکورٹی بڑھادی گئی۔ کرشنا راجہ ساگر اور دیگر آبی ذخائر پر کسانوں کی طرف سے احتجاج شروع کرنے کیلئے مختلف تنظیموں نے کوشش کی ۔ منڈیا کے کسانوں نے کے آر ایس کے باہر دن رات کا دھرنا شروع کردیا۔احتیاطی طور پر منڈیا ضلع میں سریرنگا پٹن ، پانڈو پورہ ، منڈیا اور ناگمنگل میں امتناعی احکامات مزید چار پانچ دنوں کیلئے لاگو کردئے گئے ہیں۔اہم آبی ذخائر کے آر ایس ، کبنی ، ہارنگی اور ہیماوتی کے ذریعہ تملناڈو کو پانی بہادئے جانے کی اطلاعات پر جہاں ہنگامہ مچا تھا،وہیں حکومت کی طرف سے اس وضاحت کے بعد کہ پانی تملناڈو کو نہیں، بلکہ ریاست کے کسانوں کو جاری کیا گیا ہے، کسانوں کے استعمال کے بعد جو بقیہ پانی رہ جائے گا وہی تملناڈو کو دیاجائے گا،کسانوں کے احتجاج کی شدت میں کمی آئی۔ فی الوقت کے آر ایس میں 15.7؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی ہے ، اور یہاں سے صرف 927 کیوسک پانی ہی مہیا کرایا جاسکتا ہے۔ کل کے آر ایس کے 50 گیٹ کھول کر پانی کا بہاؤ شروع کیاگیا۔ وشویشوریا کینال ، آر بی ایل ایل کینال وغیرہ کے ذریعہ 50کیوسک پانی باہر بہایا گیا۔ کبنی آبی ذخیرہ سے 3500کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ جبکہ ہارنگی سے چار ہزار کیوسک پانی بہایا گیا۔ ایوان کے فیصلے کے مطابق انتظامیہ کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ زیادہ سے زیادہ پانی زراعت کے استعمال میں لایا جائے۔مرکزی حکومت کی مداخلت اور دونوں ایوانوں کے فیصلوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت نے کاویری طاس کے آبی ذخائر میں معمولی بارش کے سبب پانی کی مقدار میں جو اضافہ ہوا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے یہ پانی زراعت کیلئے دینے کا قدم اٹھایا۔