بنگلورو۔10/اکتوبر(ایس او نیوز) ہنگامی حالات میں عوام کو فوری ایمبولنس خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے مختلف منصوبوں کے تحت موجود 2018ایمبولنس گاڑیوں کو آروگیہ کواچہ 108 میں ضم کرتے ہوئے حکومت نے احکامات جاری کردئے ہیں، جبکہ 108 منصوبے کی نگرانی کررہے جی وی کے ادارہ نے اس فیصلے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ اور ملازمین یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تمام ایمبولنسوں کو ایک اسکیم کے تحت لایا جارہا ہے تو اس کی نگرانی خود ریاستی حکومت کرے۔ اس کے باوجود حکومت اپنے فیصلے پر اٹل نظر آرہی ہے، جس کے تحت سرکاری احکامات بھی جاری کردئے گئے ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سنٹرس اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹرس میں ہنگامی صورتحال کے موقع پر ہر دیہات سے دس تا پندرہ کلومیٹر کی حدود میں ایک ایمبولنس کی موجودگی کو یقینی بنانے کے مقصد سے یہ فیصلہ لیاگیا ہے، جس کے تحت آروگیہ کواچہ 108 کے تحت خدمات انجام دے رہی 711 ایمبولنسوں کے علاوہ مختلف منصوبوں کے تحت موجود 2018 ایمبولنسوں کو 108 میں ضم کیا جارہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایمر جنسی اور حادثات کے موقع پر مریضوں یا زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے علاوہ انہیں اسپتال پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومت نے یکم نومبر 2008 کو 108 منصوبہ جاری کیا تھا۔ جس کے تحت ہر 30کلومیٹر میں ایک ایمبولنس کا ہونا ضروری قرار دیا گیا تھا، اور فی الحال اس منصوبے کے تحت 711 ایمبولنس موجود ہیں، مگر حکومت چاہتی ہے کہ دس تا پندرہ کلومیٹر کے دائرہ میں ایک ایمبولنس موجود ہو۔اسی مقصد کے تحت تمام ایمبولنس گاڑیوں کو 108 منصوبے میں ضم کیاجارہاہے۔ مختلف منصوبوں کے تحت محکمہئ صحت میں فی الحال 2018ایمبولنس گاڑیاں موجود ہیں۔جن میں 108 منصوبے کے تحت 711 اور 477 ریاستی ایمبولنس، نگو مگو اسکیم میں 200ایمبولنس، جی ایس وی منصوبے میں 180 ایمبولنس کے علاوہ 113افزود اور 367 نئی ایمبولنس موجود ہیں۔ ان تمام کو ایک اسکیم میں ضم کرنے کی پہل کی گی ہے اور محکمہئ صحت وخاندانی بہبود کے ذریعہ سرکاری حکمنامہ بھی جاری کردیا گیاہے، مگر اب تک یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ ان کی نگرانی کس کے ذمہ ہوگی؟ اس معاملے پر ابھی بات چیت جاری ہے، جبکہ ملازمین یونین کا مطالبہ ہے کہ ان ایمبولنسوں کی نگرانی خود حکومت کے ذریعہ کی جائے۔