بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں داخلے کیلئے طلبا کا آدھار کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آئندہ تعلیمی سال سے یہ لزوم لاگو ہوجائے گا ۔ ریاست کی تمام پرائمری ، مڈل ، ہائی اسکولوں اور پی یو کالجوں میں تعلیمی سال 2017-18 سے داخلوں کیلئے طلبا کا آدھار کارڈ فراہم کرنا ضروری قرار دیاگیا ہے۔ اگلے تعلیمی سال کی شروعات کے ساتھ ہی حکومت کی طرف سے تمام سرکاری ایڈڈ اور ان ایڈڈ تعلیمی اداروں کو یہ ہدایت جاری کردی جائے گی۔ پہلے ہی ریاستی پی یو سی بورڈ نے آدھار کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ لے لیا ہے۔بورڈ کے افسران کے فیصلے کے بعد ریاستی حکومت نے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اس نظام کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آدھار کار ڈ لازمی قرار دینے کیلئے وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں شفافیت لائی جائے ۔حکومت کی طرف سے جو سہولیات دی جارہی ہیں ان کا غلط استعمال نہ ہونے پائے۔خاص طور پر سرکاری اسکالر شپس اور دیگر اسکیموں سے استفادہ کے مرحلے میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی شکایات کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی پایا گیا ہے کہ سرکاری ہاسٹلوں میں فرضی پتے دے کر قیام کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔آدھار کار ڈ کو لازمی قرار دئے جانے سے ان تمام خامیوں کو دور کرلیا جائے گا۔ پرائمری اور مڈل اسکول میں حکومت کی طرف سے طلبا کو جو سہولیات مہیا کرائی جارہی ہیں ان کو مستحق طلبا تک پہنچانے کیلئے حکومت نے آدھار کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے آٹھویں جماعت کی طالبات کو مفت سائیکل فراہم کرنے کی اسکیم رائج ہے۔ اسکولوں میں طالبات کی تعداد زیادہ بتاکر سائیکلس حاصل کرنے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، آئندہ اس نظام میں شفافیت برقرار رہے اس مقصد کے تحت حکومت نے تمام تعلیمی سطحوں پر طالب علم کیلئے آدھار کار ڈ حاصل کرنا لازمی قرار دیا ہے۔