محمدوی یونیورسیٹی میں نائب صدرجمہوریہ نے ہندوستانی تکثیریتی معاشرہ میں مسلمانوں کی صورتحال پراظہارِخیال کیا
رباط یکم جون(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)نائب صدرحامدانصاری نے آج کہا کہ تشدد کی نظریات کا سہارا لینے کی طرف ہندوستان کے مسلمانوں کاکوئی جھکاؤنہیں ہے۔انہوں نے مراکش کے ریسرچ اسکالرز کے تئیں بھارت کی جانب سے کی گئی کوششوں کی جھلک سے بھی آگاہ کیا۔انصاری نے کہاکہ جدید ہندوستان میں مسلمانوں کو لے کر تجربہ یہ ہے کہ اسلام میں ایمان رکھنے والے لوگ اس کے شہری ہیں، وہ خود کو آئین کی جانب سے دیے گئے حقوق کی ضمانت کا فائدہ اٹھانے والوں مانتے ہیں،ملک کے نظام میں مکمل شرکت کرتے اور نظام کے اندر اندر رہ کراپنی شکایات کے حل کے اقدامات اٹھاتے ہیں۔اپنے سفر کے آخری دن مراکش کے دارالحکومت رباط میں واقع محمد وی یونیورسٹی میں ایک لیکچر دیتے ہوئے نائب صدر نے کہاکہ تشدد کی نظریات کاسہارا لینے کی طرف ان میں کوئی جھکاؤنہیں ہے۔نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے اپنے ملک کے مذہبی طورپرتکثیری معاشرے میں ہیں اورجدیدہندوستان اورایک تکثیری معاشرے کے وجود سے منسلک حقیقت پراس کا اثر ہے۔اسی بنیادپرایک جمہوری نظام اور ایک سیکولر حکومت ساخت کی تعمیرہو سکی۔محمد وی یونیورسٹی میں اعزازی ڈکٹریٹ سے نوازے گئے انصاری نے کہاکہ ہماری گلوبلائزڈ دنیا میں بھارتی ماڈل اہمیت کاحامل ہے کیونکہ ہندوستان میں برداشت کی روایتی خصوصیات اور تنوع کی منظوری سے آگے دیکھنے کی کوشش اور اسے ایک شہری خصوصیات کے طور پر اپنانے کی کوشش کی گئی ہے۔