ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی یووا مورچہ کی"منگلورو چلو" بائک ریالی پرپولیس اورضلع انتظامیہ کی پابندی، نلین کمارمنصوبے کے مطابق ریالی نکالنے پر بضد

بی جے پی یووا مورچہ کی"منگلورو چلو" بائک ریالی پرپولیس اورضلع انتظامیہ کی پابندی، نلین کمارمنصوبے کے مطابق ریالی نکالنے پر بضد

Tue, 05 Sep 2017 12:18:45    S.O. News Service

منگلورو 5؍ستمبر (ایس او نیوز) ایس ڈی پی آئی، کے ایف ڈی اور پی ایف آئی پر پابندی لگانے کا مطالبہ لے کر بی جے پی یووا مورچہ نے 7اگست کوریاست کے مختلف مقامات سے جو "منگلورو چلو" بائک ریالی نکالنے کا پروگرام بنایا ہے، اس کی اجازت دینے سے پولیس نے انکار کیا ہے۔دوسری طرف اڈپی پولیس اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے بھی ریالی پر 5ستمبر سے 9تک پابندی لگادی ہے۔

بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے : لیکن ایسالگتا ہے کہ ریالی کے مسئلے پر سیاسی میدان میں گرمی لانے کے لئے بی جے پی پوری طرح کانگریس سے ٹکرانے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔ رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ یہ ریالی اپنے منصوبےکےمطابق منعقد کی جائے گی ۔اوراگر حکومت میں دم ہے تو اسے روک کر دکھائے۔ اس کے برخلاف دو دن قبل ریاستی وزیر غذا جناب یوٹی قادر نے پریس کانفرنس کے دوران اپیل کی تھی کہ بی جے پی اس طرح کے ریالی سے باز آجائے اور بہت دنوں تک کشیدگی کے بعدیہاں قائم ہونے والے امن و امان کو دوبارہ بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔ایس ڈی پی آئی نے بھی پریس کانفرنس کرکے پولیس اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ریالی کی اجازت نہ دی جائے۔

نلین کمار ریالی نکالنے پر بضد: 4؍ستمبر کو جاری کیے گئے اخباری بیان میں پولیس کمشنرٹی آر سریش نے کہا ہے کہ منگلورو فرقہ وارانہ زاویے سے بہت حساس علاقہ ہے۔گزشتہ دنوں میں یہاں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کے پس منظرمیں پولیس نے بی جے پی کی ریالی اور عوامی اجلاس کے لئے اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن پولیس کی طرف سے اجازت نہ دینے پرایم پی نلین کمار کا کہنا ہے کہ" سدارامیاکی قیادت والی کانگریس کو ڈر ہے کہ وہ 2018کااسمبلی الیکشن ہار جائے گی ۔ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور احتجاج کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے۔ریالی کی اجازت نہ دے کر کانگریس ہماری حق تلفی کررہی ہے۔ لیکن ہم کسی بھی قسم کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اپنے منصوبے کے مطابق ریالی نکالیں گے جس میں20ہزار کے قریب لوگ شامل ہونگے۔اگر حکومت میں دم ہے تو روک کر دکھائے۔ "

اڈپی ضلع میں بھی پابندی:  ادھر اڈپی سٹی پولیس نے بھی "منگلورو چلو" بائک ریالی کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ انورادھانے 5ستمبر صبح6بجے سے 9ستمبرکی صبح 6 بجے تک ہر قسم کی بائک ریالیوں پر پابندی عائد کرنے کے احکام جاری کیے ہیں۔اس حکم نامے کے مطابق نہ صرف اڈپی سے کوئی بائک ریالی نکالی جاسکے گی اور نہ ہی کسی دوسرے مقام سے ریالی اڈپی داخل ہوگی اور نہ یہاں سے ریالی کو گزرنے دیا جائے گا۔پابندی کے اس حکم کا اطلاق بائک ریالی کے علاوہ کسی بھی تنظیم ، ادارے ، گروپ اور افرادکی طرف سے منعقد ہونے والی ہر قسم کی ریالی احتجاجی مظاہروں اور عوامی جلسوں پر بھی ہوگا۔

بی جے پی الیکشن تک ماحول کو کشیدہ رکھنا چاہتی ہے:  ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر رماناتھ رائے نے کہا ہے بی جے پی آئندہ اسمبلی انتخابات تک ساحلی علاقے میں ماحول کو گرم رکھنا چاہتی ہے۔مسٹر رائے کے بیان کے مطابق" بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لئے بے چین ہے۔ اس لئے منگلورو چلو کے نام پر فرقہ پرست عناصر کو جنوبی کینرا میں لانا چاہتی ہے۔مگرحکومت ان کے درپردہ منصوبوں کو کامیاب ہونے نہیں دے گی۔کیونکہ اگر ان کا مقصد علاقے میں امن قائم کرناتھا تو پھر انہیں مقامی طور پر ہی ریالی منعقد کرنا چاہیے تھا۔بیرونی عناصر کو منگلورو لانے کے منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد کچھ ٹھیک نہیں ہے۔یہ علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کھلی کوشش ہے۔"

ایس ڈی پی آئی پرمرکزی حکومت پابندی لگائے: رماناتھ رائے نے مزید کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے تنبیہ کی تھی کہ" اگر اقلیتیں فرقہ پرست ہوجائیں گی تو اس سے انہی کی قوموں کو خطرہ ہوگا اور اگر اکثریت بنیاد پرست ہوجائے گی تو پھر پورا ملک خطرے میں پڑجائے گا اور یہی سب کچھ آج جنوبی کینرا میں ہورہا ہے۔" بی جے پی کی طرف سے ایس ڈی پی آئی اورپی ایف آئی پر پابندی کے مطالبے پر رائے کا کہنا تھا کہ ایس ڈی پی آئی ایک سیاسی پارٹی ہے ۔کرناٹکا کے علاوہ کیرالہ اور آندھراپردیش میں بھی موجود ہے۔ اس لئے اگر اس پر پابندی لگنی ہے تو پھر یہ کام مرکزی حکومت کو کرنا ہے۔ اس لئے بی جے پی کےلیڈرکو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو مرکزی حکومت کے پاس پیش کریں


Share: