نئی دہلی (ایس او نیوز) بی جے پی زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) آج بدھ کو ہی صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے والی ہے تاکہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں اپنی اکثریت سے کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کرسکے۔ اس تعلق سے آج شام کو ہوئی میٹنگ میں تمام اُمور پر بات چیت مکمل ہوگئی جس کے ساتھ ہی نریندر مودی کے مسلسل تیسری بار وزیر اعظم بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق این ڈی اے کے سینئر لیڈران بشمول ٹی ڈی پی کے صدر این چندرابابو نائیڈو، جے ڈی (یو) لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، شیوسینا لیڈر اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، اور ایل جے پی (رام ولاس) کے لیڈر چراغ پاسوان سمیت بی جے پی کے اہم لیڈروں اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے میٹنگ میں شرکت کی۔ نئی دہلی میں منعقدہ میٹنگ میں جس کی صدارت مودی کررہے تھے، حکومت سازی کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔
ایکناتھ شندے نے مودی کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مودی جی کو اکثریت مل گئی ہے۔ مودی جی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت بنائے گی۔" جے ڈی (یو) کے ایم پی سنجے کمار جھا نے بتایا کہ میٹنگ میں موجود تمام لیڈران نے عوامی مینڈیٹ کے لیے اپنے خیالات کااظہار کیا، اور اس بات کی تصدیق کی کہ مودی کی قیادت میں جلد ہی حکومت تشکیل دی جائے گی۔پتہ چلا ہے کہ این ڈی اے کے تمام ممبران پارلیمنٹ کی آئندہ میٹنگ متوقع ہے۔
543 رکنی لوک سبھا میں این ڈی اے نے بھلے ہی 272 کی اکثریت کے نشان کو پار کیا ہے، لیکن اِس بار کے انتخابات میں بی جے پی صرف 240 نشستوں میں ہی جیت درج کرپائی ہے اور حکومت سازی کے لئے اتحادی پارٹیوں کی حمایت درکار ہے۔ 2014 لوک سبھا انتخابات کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے حالانکہ مودی سمیت بی جے پی کے سرکردہ لیڈران انتخابی ریلیوں میں چار سو پار کے دعوے کرتے ہوئے نعرے لگارہے تھے، مگر بی جے پی تین سو پار بھی نہیں کرپائی ہے۔
یاد رہے کہ ٹی ڈی پی، جے ڈی (یو)، شندے کی قیادت میں شیو سینا، اور ایل جے پی (رام ولاس) نے بالترتیب 16، 12، 7 اور 5 نشستیں حاصل کی ہیں، جو حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
حالانکہ حلف برداری کی تقریب کی صحیح تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن قیاس ہے کہ اگر نئی حکومت کے ڈھانچے کو جلدی ترتیب دیا گیا تو تقریب ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے۔ ٹی ڈی پی اور جے ڈی (یو) جیسی جماعتیں کچھ اہم محکموں کے مطالبے کی توقع کر رہی ہیں، کیونکہ ان کی حمایت حکومت کی تشکیل اور بقا کے لیے بے حد ضروری ہوگی۔
(فوٹو بشکریہ: اے این آئی نیوز ایجنسی)