نئی دہلی، 7 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج پٹنہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے نفاذ پر روک لگا دی ہے ، جس کے تحت بہار حکومت کی طرف سے ریاست میں تمام قسم کی شراب کی فروخت اور استعمال پر لگائی گئی پابندی کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس ادے یو للت کی بنچ نے کچھ شراب بنانے والوں سمیت تمام مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ان مدعا علیہان کی درخواست کی بنیاد پر ہی ہائی کورٹ نے نتیش کمار حکومت کے پابندی قانون کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت اب 8 ہفتے بعد کرے گا۔بہار حکومت نے ہائی کورٹ کے 30؍ستمبر کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا ہے، جس میں اس نے ریاست میں شراب کی فروخت اور استعمال کو ممنوع قراردینے والے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا تھا۔حالانکہ اس قانون کو منسوخ کئے جانے کے بعد شراب کی فروخت اور اس کے استعمال پر پابندی لگانے کے لیے نتیش حکومت نے 2 ؍اکتوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر ایک نیا قانون مطلع کر دیا تھا۔
ریاستی حکومت نے درخواست میں عدالت عظمی سے درخواست کی ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دے، جس کے ذریعہ شراب پر پابندی لگانے والی پانچ اپریل کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا ہے۔اس میں بہار ممنوع اور آبکاری قانون، 2016کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہا کہ ریاست میں ہندوستان میں بنائی گئی غیر ملکی اور دیسی شراب سمیت شراب کی فروخت اورپینے پر پابندی جاری رہے۔ہائی کورٹ کے 30ستمبر کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے بہار حکومت نے عدالت سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کہا تھا کہ ریاست شراب کی تقسیم اور پینے پر مکمل پابندی لگا سکتی ہے یا نہیں اور کسی شخص کو شراب پینے کو آئین کے تحت اپنا بنیادی حق بنا کر دعوی پیش کرنے کا حق ہے یا نہیں۔نتیش حکومت نے دعوی کیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے نتیجے میں، شراب پر مکمل پابندی لگانے کی ریاستی حکومت کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ہائی کورٹ نے 30ستمبر کو ریاست میں شراب کی فروخت اور پینے کو محدود کرنے کے نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئین کے کے اختیارسے باہر ہے۔یہ حکم شراب کی تجارت ایسوسی ایشن اور دیگر کی طرف سے دائر درخواستوں کی بنیاد پر منظور کیا گیا تھا۔ان درخواستوں میں سخت تادیبی دفعات والے شراب قانون کو چیلنج کیا گیا تھا۔کچھ ہی وقت بعد بہار حکومت شراب کوممنوع کرنے والا ایک نیا قانون لے کر آئی۔اس میں ممنوع مادہ برآمد ہونے پر گھر کے تمام بالغوں کو گرفتار کئے جانے جیسی سخت شق شامل تھی۔بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت نے یکم اپریل سے ملک میں شراب کوبنانا، کاروبار، فروخت اور پیناممنوع قراردیاگیاتھالیکن بعد میں اس نے ریاست میں تمام قسم کی شراب ممنوع کر دی تھیں اور ان میں غیر ملکی شراب بھی شامل تھی۔