ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں پھر گرمایا سیویج پمپنگ اسٹیشن سے شرابی ندی میں گندے پانی کے اخراج کا مسئلہ ؛ کیا اس معاملے میں بھی کسی کی جیبیں ہورہی ہیں گرم ؟

بھٹکل میں پھر گرمایا سیویج پمپنگ اسٹیشن سے شرابی ندی میں گندے پانی کے اخراج کا مسئلہ ؛ کیا اس معاملے میں بھی کسی کی جیبیں ہورہی ہیں گرم ؟

Sat, 24 Aug 2024 11:08:38    S.O. News Service

بھٹکل ،24/ اگست (ایس او نیوز) بھٹکل ٹاون میونسپل حدود کے غوثیہ محلے میں واقع سیویج پمپنگ اسٹیشن کا گندہ پانی قریب میں موجود شرابی ندی میں چھوڑنے اور اس کی وجہ سے ندی گٹر کے نالے میں تبدیل ہونے کا مسئلہ دوبارہ گرمایا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ مہینے قبل اس کے خلاف احتجاج کے بعد روکا گیا پانی اب پھر سے ندی میں چھوڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔
    
اس گندے پانی کی وجہ سے صرف ندی ہی خراب نہیں ہوئی بلکہ آس پاس کے کنووں میں بھی گندہ پانی رسنے کی وجہ سے اب وہ کنویں بھی استعمال کے قابل نہیں رہے ۔ ایک طرف لوگوں کے لئے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری طرف پورے علاقے  میں بدبو اس حد تک پھیلی ہے کہ لوگوں کا جینا حرام ہو گیا ہے ۔ بعض جگہ گندے پانی کی نکاسی کے لئے بنے ہوئے نالوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور اس کی وجہ سے مچھروں کی افزائش کا مسئلہ الگ سے کھڑا ہوگیا ہے ۔ علاقے کے لوگوں کے لئے صحت عامہ کے نقطہ نظر سے بھی انتہائی خراب صورتحال کا سامنا ہے ۔     

ندی میں دوبارہ گندہ پانی چھوڑنے کی موجودہ حالت کے پیش نظر مقامی عوام نے ایک بار پھر ٹاون میونسپل کاونسل اور مقامی لیڈروں کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ سیویج پمپنگ اسٹیشن میں بار بار تیکنیکی خرابی پیدا ہوتی ہے اور موٹرس صحیح ڈھنگ سے کام نہ کرنے کی صورت میں چپکے سے گندہ پانی ندی میں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ عوام کے لئے مصیبت بنے ہوئے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کا بار بار مطالبہ اور احتجاجی مظاہرے کرنے اور بارہا یاد داشتیں پیش کرنے کے باوجود متعلقہ محکمہ جات، عوامی منتخب نمائندے اور سرکاری افسران اس پر سنجیدگی سے اقدام نہیں کر رہے ہیں ۔

تیکنیکی ماہر کا کیا کہنا ہے:  پمپنگ اسٹیشن کا   جا ئزہ لینے والے ایک تیکنیکی ماہر نے بتایاکہ    گٹر کے گندے پانی کو  ٹھکانے لگانے والے یونٹ میں 50HP۔ صلاحیت والے دو اور 40HP صلاحیت والے  2 موٹرس ہیں۔ ایک وقت میں صرف 2 موٹرس ہی کام کرسکتے ہیں کیونکہ  یہاں جو ٹرانسفارمر لگا ہے وہ 100HP کا ہے، ظاہر ہے، ایسی صورت میں ایک ساتھ 50 ایچ پی کا ایک موٹر اور 40 ایچ پی کا ایک موٹر چلایاجاتا ہے ۔ یہاں تیسرا موٹر چلانے کی صورت میں ٹرانسفارمر بند ہوجاتا ہے کیونکہ  سو ایچ پی سے زیادہ  والا موٹر چلانا ممکن نہیں ہے۔

 اس ماہر کا کہنا ہے کہ   پمپنگ اسٹیشن میں جمع ہونے والے  گندے پانی کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ  اُسے دو موٹروں کے ذریعے   وینکٹاپور ندی کی طرف پوری طاقت کے ساتھ   دھکیلنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں اگر تیسرا موٹر بھی کام پر لگانا ہے تو  مزید ایک ٹرانسفارمر لگانا ہوگا جس کے لئے میونسپالٹی کی منظوری ضروری ہے، لیکن  میونسپالٹی حکام ہو یا  مقامی کونسلرس ہوں،  اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ  بارش کے موسم میں  پمپنگ اسٹیشن میں گندے پانی کے ساتھ  بارش کا پانی بھی کثیر مقدار میں جمع ہوجاتا ہے تو  اس کو ٹھکانے لگانا ممکن نہیں ہوتا، اس صورت میں   گندے  پانی کو چپکے سے ندی میں بہانا مجبوری  ہے اور ندی میں طغیانی کی وجہ سے  گندہ پانی  آسانی کے ساتھ ندی  سےبہہ جاتا ہے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوپاتا، اگر ہم اس پانی کو ندی میں نہیں بہائیں گے تو علاقہ کے سینکڑوں کنووں میں پانی بھرنا شروع ہوجائے گا۔ کیونکہ پانی کو  راستہ چاہئے اگر ہم راستہ نہیں دیں گے تو  پانی  اپنا راستہ خود بناتا  ہے۔

عوام کیا کہتے ہیں:  اس تعلق سے مقامی عوام کا الزام ہے کہ  پمپنگ اسٹیشن پر جواہلکار خدمات پر مامور ہیں، وہ اکثر موٹرس کو ہی بند کردیتے ہیں اور پانی کو ندی میں چھوڑ کر ناشتہ اور چائے پانی کے لئے  نکل جاتے ہیں، حالانکہ اہلکاروں کو یہاں چوبیسوں گھنٹے ڈیوٹی دینا  لازمی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ  اہلکار موٹروں کو بند کیوں کریں گے،  ایسا کرنے سے اُن اہلکاروں کو کیا ملے گا تو عوام کا کہنا ہے کہ وہ لوگ  موٹروں کو بند کرکے ڈیزل کا پیسہ  بچاتے ہیں اور اپنی جیب بھرتے ہیں۔

پانی  بل:  مقامی لوگوں نے بتایا کہ غوثیہ اسٹریٹ پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر فیل ہونے اور سینکڑوں کنویں گندے نالوں میں تبدیل ہونے کے بعد جب یہاں صاف پانی کی قلت پیدا ہوگئی تو میونسپالٹی کی جانب سے   نلوں  کے ذریعے صاف پانی کا انتظام کیا گیا اور متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو مفت پانی سپلائی کیا جانے لگا۔ لیکن   اب دو سالوں سے پانی کا بل  دیا جارہا ہے اور مکینوں کود ھمکایا جارہا ہے  کہ اگر پانی بل نہیں بھرا گیا تو میونسپالٹی کے  پانی کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا۔ مکینوں نے سوال کیا کہ  پورے علاقے کو خراب کرنے اور صاف پانی سے محروم کرنے کے بعد  اب   ہم  سے پانی کا پیسہ بھی لیاجارہا ہے اور یہ سبھی فیصلے  تنظیم حمایتی کونسلروں کی اکثریت میں ہورہے  ہیں۔عوام کے الزامات  کی تصدیق کرنے کے لئے ساحل آن لائن نے علاقہ کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے کونسلر اور میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین قیصر محتشم سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ "   اپنی پہلی میعاد میں  ، میں نے اپنا پورا زورلگاتے ہوئے  تمام متاثرہ علاقوں میں میونسپالٹی کا پانی مفت کرایا تھا، مگر جب  بوڈی ڈیسول ہوئی تو اسسٹٹنٹ کمشنر کے پاس چارج چلا گیا تو اُس نے   پانی کے بل کی ادائیگی کو  لاگو کرایا۔ اس میں ہم کونسلروں کا کوئی  دخل نہیں تھا۔ قیصر نے یہ بھی بتایا کہ اب ہماری نئی بوڈی آئی ہے تو ہم پھر ایک بار کوشش کریں گے کہ  متاثرہ علاقوں کے گھروں میں مفت پانی سپلائی کیا جائے۔


Share: