ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میونسپالٹی دکانوں کو خالی کرانے تعلقہ انتظامیہ نے بڑھائے قدم؛ عوام کا سخت احتجاج؛ پانچ دن کی دی گئی مہلت

بھٹکل میونسپالٹی دکانوں کو خالی کرانے تعلقہ انتظامیہ نے بڑھائے قدم؛ عوام کا سخت احتجاج؛ پانچ دن کی دی گئی مہلت

Sat, 09 Sep 2017 14:50:17    S.O. News Service

بھٹکل 9/ستمبر (ایس او نیوز)  بھٹکل میونسپالٹی کی 34 کرائے کی دکانوں کو خالی کرانے جیسے ہی  تعلقہ انتظامیہ نے قدم بڑھائے، عوام نے زبردست مزاحمت شروع کردی اور آفسران کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے الزام لگایا کہ آفسران صرف غریب دکانداروں کی روزی چھیننے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ پیسے والے لوگ غیر قانونی طور پر بھٹکل میں عمارتیں بھی تعمیر کرتے ہیں تو  اُن کو خالی کرانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس موقع پر کاروار سے خصوصی طور پر تشریف فرما سنئیر ایکزی کوٹیو انجینر آر پی نائک، ازمائشی ڈپٹی کمشنر (Probitionary DC) آنند، بھٹکل میونسپل چیف آفسرشنکرپا جی ایس  سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو عوام نے آڑے ہاتھ لیتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کتنے ہی حکموں پر کاروائی نہیں ہوتی، آمیرلوگوں کو ہر معاملے میں راحت دی جاتی ہے، مگر غریب لوگوں پر ہی قانون کا ڈھونس جمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بی جے پی لیڈر گوند نائک، میونسپل کونسلر وینکٹیش نائک،  کرشنا نائک اور دیگر ذمہ داران نے اس موقع پر بتایا کہ بھٹکل میں ہائی کورٹ نے ایک عمارت کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے، مگر میونسپالٹی اور تعلقہ انتظامیہ اُسے توڑنے کے لئے آگے نہیں آرہی ہے، سپریم کورٹ نے گائے کے ذبح پر پابندی عائد کی ہے، مگر بھٹکل میں اُس قانون کو بھی لاگو نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  قانون کو ہر ایک کے لئے لاگو کیا جائے،اگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا حکم ہے تو اُن کے پہلے جاری کئے گئے دوسرے حکموں پر بھی عمل کیا جائے۔

احتجاجیوں نے اس موقع پر میونسپالٹی کے خلاف اور کچھ آفسران کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور اس بات پر اڑ گئے کہ وہ کسی بھی حال میں دکانوں کو خالی کرانے اور اُن پر انتظامیہ کو قبضہ جمانے کا موقع نہیں دیں گے۔ کافی بحث اور تکرار کے بعد بالاخر سنئیر ایکزی کوٹیو انجینر نے پرانے کرایہ داروں کو پانچ دن کی مہلت دی اور کہا کہ پانچ دنوں کے اندر وہ دکانوں کو خالی کریں۔

خیال رہے کہ بھٹکل میں میونسپالٹی کی جملہ 156 دکانیں ہیں، جس کو بولی کےذریعے نیلام کرنے  گذشتہ سال ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی، اُس ہدایت کے تحت جب بھٹکل میونسپالٹی کے حکام نے نیلامی کا دن مقرر کیا تو پچاس سے زائد دکانداروں نے  ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کیا، اس بنا پر   گذشتہ سال اگست میں 102دکانوں کی بولی لگا کر نیلامی کی گئی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ  نیلامی کے دوران ہزار اور دو ہزار کے  کرائے کی دکانیں ایک لاکھ سے زائد کرائے پر نیلام ہوئی، کچھ دکانیں پچاس ہزار اور ساٹھ ہزار فی ماہ کے کرائے پربھی نیلام کی گئی، جس کی بھرپائی بھٹکل کے کاروباری حالات کو دیکھتے ہوئے ناممکن لگتی ہے۔ اسی بات کو لے کر 17 دکانداروں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی کہ بولی کے ذریعے جو دکانیں نیلام کی گئی  ہیں،  وہ  کاروائی درست نہیں ہے، عرضی پر ہائی کورٹ نے  نیلام کی گئی دکانوں پر اسٹے لگادیا۔

میونسپالٹی صدر محمد صادق مٹا نے بتایا کہ اُن 102 دکانوں کو چھوڑ کر 39 دکانیں ایسی تھیں جنہوں نے میونسپالٹی کو کوئی بونڈ نہیں دیا تھا اور اُن کا کرایہ بھی باقی تھا، اُن 39 میں پانچ دکانداروں نے ہائی کورٹ سے اسٹے حاصل کیا ہے، لہٰذا بقیہ 34 دکانوں کو خالی کرانے کاروار ڈپٹی کمشنر نے حکم دیا تھا، جس کو خالی کرانے آج تعلقہ انتظامیہ آگے آئی تھی، مگر کافی بحث مباحثے کے بعد پانچ دن کی مزید مہلت دے کر آج کی کاروائی کو ملتوی کیا گیا۔

واضح رہے کہ 34 دکانوں کو خالی کرانے کاروار سے ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکھول آج صبح بھٹکل پہنچنے کی اطلاع پہلے سے دکانداروں کو تھی، جس کو دیکھتے ہوئے کئی ایک دکانداروں نے کل یعنی جمعہ کی شام کو ہی اپنی اپنی دکانیں خالی کرادی تھیں۔ آج دکانوں کو خالی کرانے میونسپالٹی کے باہر پولس کا کافی سخت پہرہ  بٹھایا گیا تھا، ڈی وائی ایس پی شیو کمار، سرکل پولس انسپکٹر سریش نائیک سمیت سبھی پی ایس آئی بھی موقع پر موجود تھے۔ بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ اور  کاروار کے پروجکٹ ڈائرکٹر  ویرٹّی مٹّا  سمیت  میونسپالٹی کا دیگر اسٹاف بھی موجود تھا۔  آج کی کاروائی کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ پانچ دن بعد آخر  کیا ہوتا ہے۔


Share: