بھٹکل یکم فروری (ایس او نیوز) بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ نے گھٹر کے گندے پانی کو شرابی ندی میں چھوڑے جانے پر پیش آنے والے حالات پر علاقے کی صورتحال کا جائزہ لینے غوثیہ اسٹریٹ پہنچے اور صاف و شفاف ندی گھٹر کے نالے میں تبدیل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر متعلقہ علاقہ کے ذمہ دار اور بھٹکل میونسپالٹی کے کونسلر قیصر محتشم نے اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ یہاں کے عوام کو گمراہ کرکے اور عوام کو جھوٹے وعدے اور دلاسے دے کر پمپنگ اسٹیشن کو اس جگہ پر قائم کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں علاقہ میں کس طرح کے حالات پیش آئے ہیں، اُس کا وہ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اے سی نے دیکھا کہ پوری ندی کا پانی کالا ہوگیا ہے اور پورے علاقے میں ایک قسم کا تعفن پھیلا ہوا ہے، انہوں نے بتایا کہ صورتحال اتنی خراب ہے کہ کچھ منٹ ٹہرنا مشکل ہے۔
میونسپل صدر جناب محمد صادق مٹا نے بتایا کہ 2006 میں ایشین ڈیولپمنٹ پروجکٹ کے تحت یہاں پمپنگ اسٹیشن قائم کیا گیا تھا جس کے مطابق یہاں پورے شہر کا گھٹر جمع ہوکر اُسے مشین میں پمپ کرنے کے بعد وینکٹاپور ندی بھیجا جاتا تھا۔ مگر گذشتہ کئی سالوں سے یہاں پمپنگ کرنے والا موٹر بار بار خراب ہونے کی شکایتیں موصول ہوتی رہی تھیں اور عوام بار بار شکایت کررہے تھے کہ گھٹر کے گندے پانی کو ندی میں چھوڑا جارہا ہے، مگر اُس وقت کچھ لمحوں کے لئے پانی ندی میں چھوڑے جانے سے بھی پورے علاقہ کے کنویں خراب ہوگئے تھے اور ندی گندی ہوگئی تھی، مگر اب چاروں موٹر خراب ہونے کی وجہ سے اب پورے ایک ماہ سے پورا کا پورا گندہ پانی اور ڈرینیج شرابی ندی میں چھوڑا گیا ہے، جس سے حال بے حال ہوگیا ہے۔ جناب صادق مٹا نے پمپنگ اسٹیشن کے موٹروں کا بھی معائنہ کروایا اور حالات سے مکمل باخبر کروایا۔
اس ضمن میں جب مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری نے سخت ترش لہجے میں بتایا کہ فوری معاملے کو نہیں سلجھایا گیا تو عوام اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے تو اسسٹنٹ کمشنر نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ جب پمپنگ اسٹیشن یہاں قائم کیا جارہا تھا تو اُس وقت یہاں کے لوگوں نے احتجاج کیوں نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کہ یہ پورا گنجان آبادی والا علاقہ ہے، یہاں راستے بھی اتنے تنگ ہیں کہ ایک لاری بھی اندر نہیں آسکتی، ایسی جگہ پر پمپنگ اسٹیشن قائم کرنا ہی غلط ہے، مگر یہاں کے عوام نے پورے شہر کی گندگی کو یہاں لانے کو کیوں قبول کیا ، وہ سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی جہاں گنے چنے مکانات رہتے ہیں، ایسا اسٹیشن قائم کرنے پر لوگ احتجاج پر اُترآتے ہیں، مگر یہاں اتنی بڑی آبادی ہے اور لوگ خاموش رہے، یہ حیران کرنے والی بات ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ جہاں پینے کے پانی کے کنویں ہوتے ہیں، اُن جگہوں پر پمپنگ اسٹیشن قائم کرنا ہی غلط ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ نے مسئلے کے فوری حل کے لئے میونسپل صدر محمد صادق مٹا سے درخواست کی کہ وہ میونسپالٹی میٹنگ میں فوری طور پر یہاں نئے موٹرس لانے کی قرارداد منظور کرائیں اور قرار داد کی ایک نقل فوری اُنہیں فراہم کریں، وہ قرارداد کی کاپی کے ساتھ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست روانہ کریں گے کہ جلد سے جلد یہاں نئے موٹرس نصب کرنے کی اجازت دیں۔ اے سی ایم این منجوناتھ کے ہمراہ متعلقہ وارڈ کے کونسلر ڈاکٹر ایس ایم سید سلیم سمیت میونسپالٹی کے نائب صدر محمد اشفاق کے ایم، کونسلر فیاض مُلا اورمقامی عوام موجود تھے۔
ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے میونسپل صدر نے بتایا کہ میونسپالٹی کے پاس موٹر خریدنے کے لئے رقم موجود ہے، مگر موٹر خریدکر نصب کرنے کا جو پروسس ہے، وہ کافی لمبا ہے، البتہ اگر ڈپٹی کمشنر چاہیں تو یہ کام فوری طور پر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میونسپل میٹنگ میں جملہ تین نئے موٹر خریدنے کی قرار داد منظور کی گئی ہے، جس میں دو موٹروں کے لئے پہلے ہی آرڈر دئے جاچکے ہیں، اسی طرح پرانے دو موٹروں کی مرمت کی جارہی ہے۔ اس تعلق سے قیصر محتشم نے بتایا کہ میونسپالٹی میٹنگ میں ایک نیا جنریٹر اور ایک پینل بورڈ بھی خریدنا منظور ہوا ہے جو آرڈر دینے کے بعد سات آٹھ ماہ میں بھٹکل پہنچے گا۔ ان کے مطابق چار موٹر وں کےذریعے پمپنگ کی جائے گی تو دیگر چار موٹروںکو ریزرو رکھا جائے گا۔
جناب قیصر محتشم نے بتایا کہ جو موٹرس خراب ہوئے تھے، اُس میں سے ایک موٹر درست کیا گیا ہے، ایک نیا موٹر بھی لایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2006 کے بعد پہلی بار پمپنگ اسٹیشن میں maintenance کا کام کیاجارہا ہے، موٹر نصب کرنے والے کنویں کی صفائی کی جارہی ہے، نیا پلیٹ فارم بھی تعمیر کیاجارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کم ازکم یہاں وقت وقت پر maintenance بھی برابر کیا جاتا تو مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قریب ایک ہفتہ کے اندر maintenance کا کام مکمل ہوگا ، جس کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جب تک پمپنگ اسٹیشن یہاں رہے گا، دوبارہ گھٹر کے پانی کو ندی میں نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ ہر سال پمپنگ اسٹیشن کا باقاعدہ maintenance ہوگا۔
قیصر محتشم، جو میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیرمین بھی ہے، نے بتایا کہ پمپنگ اسٹیشن سے شرابی ندی میں گھٹر کے پانی کو چھوڑنے سے روکنے کے لئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں، یہ مسئلہ کا صرف عارضی حل ہے اور ہم اس کا مستقل حل چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک پمپنگ اسٹیشن کو یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک یہاں کے عوام راحت کی سانس نہیں لیں گے۔ قیصر محتشم نے مزید بتایا کہ پمپنگ اسٹیشن کو یہاں سے ہٹانے کے لئے نہ صرف پورے علاقہ بلکہ اطراف کے علاقوں کے عوام کی بھی حمایت اُنہیں حاصل ہے لہٰذا وہ اس پمپنگ اسٹیشن کو یہاں سے ہٹا کر ہی دم لیں گے۔