بھوپال،9؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں یو پی ایس سی کی تیاری کررہی طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کے معاملہ میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ لڑکی کی پہلی میڈیکل رپورٹ میں اجتماعی آبروریزی کی بجائے باہمی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کی بات اجاگر ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ کا پہلا ٹیسٹ سلطانیہ اسپتال میں کیا گیا تھا اور یہاں جس خاتون ڈاکٹر نے چیک اپ کیا تھا ، اس نے اپنی رپورٹ میں اجتماعی آبروریزی کی بجائے باہمی رضامندی سے بنائے گئے تعلق کا تذکرہ کیا تھا۔تاہم اس معاملہ میں ہنگامہ ہونے کے بعد متاثرہ طالبہ کا دوبارہ میڈیکل چیک اپ کروایا گیا ، جس میں اجتماعی عصمت دری کی تصدیق کی گئی۔ دوسری رپورٹ میں چار ملزموں کے ذریعہ آبروریزی کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اس پورے معاملہ میں ابتدا سے ہی انتظامیہ کی لاپروائی سامنے آتی رہی ہے۔ پہلے بھوپال پولیس متاثرہ طالبہ اور اس کے اہل خانہ کو ایف آئی آر ر درج کرانے کیلئے دن بھر پس و پیش کرتی رہی اور پھرپولیس کے افسران اور ملازمین نے بار بار جائے واقعہ کا معائنہ اور بیان درج کرکے متاثرہ طالبہ اور اس کے اہل خانہ کو پریشان کیا۔قابل ذکر ہے کہ 31 اکتوبر کی دیر شام بھوپال میں آر پی ایف میں ملازم اے ایس آئی کی بیٹی کی چار ملزموں نے اجتماعی آبروریزی کی تھی۔ واقعہ حبیب گنج آر پی ایف چوکی کے نزدیک پیش آیاتھا۔ متاثرہ لڑکی نے اہل خانہ کے ساتھ مل کر خود ایک ملزم کو پکڑا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے اجتماعی آبروریزی کے تقریبا 24 گھنٹے بعد کیس درج کیا اور بعد میں جی آر پی نے مفرور چاروں ملزموں کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔