ممبئی،9؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) دہشت گردی کے مبینہ فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں بھارتی حکومت کو کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ ملیشیائی سرکار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر بھارتی سرکار اسلامی مبلغ ذاکر نائک کے متعلق سپردگی کی درخواست ملتی ہے تو اس پر غور کیا جائے گا ۔ واضح ہو کہ ذاکر نائک پر این آئی اے نے بھارت میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے مبینہ معاملہ پر چارج شیٹ داخل کی ہے۔ملائشیا کے ڈپٹی وزیر اعظم احمد زاہد حمیدی نے ایوان زیریں میں کہا کہ اگر اگر ذاکر نائیک کی سپردگی کیلئے بھارت کرتا ہے تو ہم اس پر غور کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک بھارت کی حکومت سے سرکاری طور پر کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے ۔ تاہم اس معاملہ میں ہندوستانی حکومت ردِ عمل کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ملائیشیا حکومت کو ایک خط بھیجا گیا ہے ۔این اے آئی کے ذرائع کے مطابق، جلد ہی ملائیشیا کی حکومت کو فوری طور پر وزارت خارجہ کے ذریعے بھیجنے کے لئے ایک رسمی درخواست بھیجی جائے گی۔ 52 سالہ اسلامی اسکالر اور مبلغ ذاکر نائک پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو فتنہ پرستی اور دہشت گردی کی طرف لے جانی والی اشتعال انگیز مواد کی فراہمی کرتے ہیں ۔ ان الزامات کی وجہ سے بھارتی حکومت نے ذاکر نائیک این جی او کے اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن پر بھی پابندی عائد کردی ہے حتی کہ بھارت کے جس شہر میں اس کا دفتر تھا اس کو بھی سیل کر دیا گیا ہے ۔ ذاکر نائیک اس وقت چرچا میں آئے جب ڈھاکہ دہشت گردانہ حملے میں ملوث ایک دہشت گرد نے ٹوئٹر پر ذاکر نائیک کو فالو کرتا تھا ، بھارتی حکومت نے بنگلہ دیشی تحقیقات کی بنیاد پر ذاکر نائیک کو بھی تفتیش کے دائرہ میں لا کھڑا کیا ، ان کے بیانات کے تمام ریکارڈ کھنگالے گئے ، تاہم کوئی پختہ ثبوت ہاتھ نہیں لگ سکا ،معروف اسلامی اسکالر ذاکر نائیک اس وقت ملیشیا کے دورہ پر ہیں۔