بنگلورو۔7/اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ کم قیمت پر بجلی کی آس میں بڑی بڑی کمپنیاں بشمول انفوسس، ریاست سے باہر اپنے کارخانے منتقل کرنے پر غور کررہی ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے۔ ریاستی حکومت ان صنعتی گھرانوں کو ریاست میں ہی برقرار رکھنے کیلئے مناسب قدم اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 7ہزار میگاواٹ بجلی کی خریداری کی گئی کمپنیاں اس خریداری کی آؤٹ سورسنگ کی وجہ سے پریشان ہوچکی ہیں۔ ساتھ ہی بڑی بڑی کمپنیوں سے وصول کی جانے والی بجلی بلوں کی رقم کسانوں کی سبسیڈی پر صرف کئے جانے سے بھی یہ کمپنیاں تشویش میں مبتلا ہیں۔ آج سدا شیونگر میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی سفیر شائی موسس سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بڑی بڑی کمپنیاں اگر ریاست سے باہر نکل گئیں تو اس سے ریاست کے معاشی نظام پر اثر پڑے گا۔ اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ صرف کرناٹک بلکہ گجرات اور دیگر ریاستوں کو بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گجرات مہاراشٹرا اور کرناٹک کے وزرائے توانائی کی میٹنگ عنقریب ہونے والی ہے، جس میں بجلی کی قلت کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں تبادلہئ خیال ہوگا اور ان کمپنیوں کو رعایت کے بارے میں بھی ٹھوس پہل ہوگی۔ وزیر توانائی نے کہاکہ ریاست میں کہیں بھی بجلی کی قلت نہ ہونے پائے یہ یقینی بنایا جارہا ہے۔ 48 فیصد بجلی کی بچت کی جارہی ہے، آنے والے دنوں میں اس میں اور اضافہ کیا جائے گا۔ فی الوقت ریاست میں 8600میگاواٹ بجلی کی مانگ ہے، جس میں سے 7/ ہزار میگاواٹ بجلی بڑے گاہکوں کو ہی دی جاتی ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے بتایاکہ 27/ تا29نومبر اسرائیل میں منعقدہونے والی تکنیکی کانفرنس میں شرکت کیلئے آج اسرائیلی سفیر نے انہیں مدعو کیا ہے، اس میں شرکت کرنے کے بارے میں افسران سے تبادلہئ خیال کرکے وہ فیصلہ لیں گے۔