بنگلورو،20/نومبر(ایس او نیوز) گزشتہ روز دوحصوں پر مشتمل تحقیقاتی جائزہ رپورٹ کا پہلا جائزہ رپورٹ کا مسودہ ماحولیاتی مینجمنٹ اور پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ای ایم پی آر آئی) کی طرف سے پیش کیا گیاہے۔ شہر میں یہ پہلی بار ایسا ہواہے کہ پانی کے تمام ذخائر کا بہت گہرائی اور گیرائی کے ساتھ مطالعہ کیاگیاہے، جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ پانی کی حالت اچھی نہیں ہے۔ جھیلوں اور تالابوں کی سب سے پہلی فہرست سے پتہ چلتاہے کہ اس میں کیا کچھ ہے اور ہماری صحت کے لئے کتنا خطرناک ہے۔ تمام ذخائر آب میں آلودگی بہت زیادہ ہے جس پر ہم یقین بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک انتہائی حساس اور احتیاطی اندازے پیش کئے گئے ہیں جس میں اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ 85؍فیصد آبی ذخائر بہت زیادہ آلودہ ہیں اور انتہائی خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔ ای ایم پی آر آئی کی طرف سے قائم کردہ دوسالہ تحقیقاتی پراجیکٹ نے 1,518؍ذخائر آب کا جائزہ لیاہے اور اس نے آبی نگرانی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام تالابوں اور جھیلوں پر باڑ کی اشد ضرورت ہے اور انسٹی ٹیوٹ نے پانی کی صفائی کے لئے مفید مشوروں سے بھی نوازا ہے۔ تحقیقات میں یہ اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ50؍فیصد ذخائر آب میں جس میں بڑے اور درمیانہ درجہ کے جھیل اور تالاب شامل ہیں نقشہ سے غائب ہوچکے ہیں۔ 681؍آبی ذخائر تجزیہ کے لئے باقی ہیں۔ ان میں سے 392؍جھیلوں اور 305 تالابوں کا جائزہ لیا گیاہے۔ مانسون کے دوران لئے گئے نمونوں میں سے 85؍فیصد نمونے ای گریڈ میں آتے ہیں اور ایسے ہیں کہ ان پانیوں کا استعمال صرف آب پاشی اور صنعتی اداروں میں کولنگ کے لئے ہوسکتاہے اور 13؍فیصد پانی ڈی گریڈ صرف مچھلی پالن کے لئے استعمال ہوسکتاہے اور بقیہ 2؍فیصد پانی نسبتاً کم آلودہ ہے اور اس کو پینے کے لائق اور اے گریڈ بنایا جاسکتاہے یا بی گریڈ مان کر اس کا استعمال غسل کے لئے ہوسکتاہے۔ ایک وقت تھا جب شہر بنگلور کو جھیلوں کا شہر کہاجاتاتھا اور ہزاروں جھیل شہر بنگلور میں تھے۔ ان میں سے کتنے جھیلوں کی حیثیت بدل گئی اور کتنے ضائع ہوگئے، جس کی وجہ سے پودوں اور جانوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مذکورہ ای ایم پی آر آئی تحقیقاتی ایجنسی کو کرناٹکا جھیل تحفظ اور ترقیاتی اتھارٹی (کے ایل سی ڈی اے) نے ماحولیات کا جائزہ لینے اور تالابوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے قائم کیا تھا، جس پر تقریباً 2؍لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ مذکورہ ایجنسی نے باخبر کیا ہے کہ جھیلوں کی آلودگی عام زندگی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اس تحقیق کے بعد کرناٹک ریاست آلودگی کنڑول بورڈ (کے ایس پی سی سی بی) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 67؍جھیلوں کی نگرانی کرے گی۔ لیکن پانی کے معیار کی تفتیش سے جس بات کا خلاصہ ہوا ہے وہ انتہائی چونکا دینے والاہے کہ موجودہ ذخائر آب میں 98؍فیصد پانی ای گریڈ میں آتاہے اور انتہائی غیراطمینان بخش ہے۔ صرف 2؍فیصد ہی اے گریڈ میں آتاہے اور اطمینان بخش ہے۔ اس ضمن میں 6؍جھیل ہیں ناگوارہ، سانکی، لال باغ، آولہلی اور بھیمانکوپے جھیل آتے ہیں۔ تحقیقاتی جائزہ سے پتہ چلتاہے کہ بنگلور میٹرو پولیٹن علاقہ میں زیادہ تر تالابوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہے اور اس کا استعمال انسانی زندگی کے لئے غیرمعمولی حدتک نقصان دہ ہے۔
ٹھوس فضلہ نصف جھیلوں کو متاثر کرتاہے: رپورٹ میں آلودگی کے بنیادی عوامل کی ایک فہرست بھی دی گئی ہے جس میں کہاگیاہے کہ تالابوں کو آلودہ کرنے والے عوامل میں فضلہ کی نکاسی ہے جس کو بلاراست اور براہ راست ان تالابوں اور جھیلوں میں داخل کیا جاتاہے۔جائزہ لئے گئے جھیلوں میں سے 33؍ جھیلوں میں یہ پایا گیا کہ ان کے کنارے پرفضلہ ڈمپ کیا جاتاہے اور اس کو وہیں جلایا بھی جاتاہے اور اس فضلہ میں ٹھوس فضلہ سب سے زیادہ اہم ہے جو 44.5؍فیصد پانی کے ذخیرہ کو متاثر کرتاہے۔ اس ٹھوس فضلہ میں زیادہ تر بیٹریاں اور سی ایف ایل بلب شامل ہیں۔ جو خطرناک فضلہ ہے۔ جھیلوں کے تہوں میں ایک تہائی تعمیری ملبہ جمع ہے۔ صنعتی اداروں کے فضلوں اور تعمیری فضلوں کی نکاسی سے تالابوں کی زندگی کے ساتھ انسانی زندگی کو بھی بڑا خطرہ لاحق ہے۔ آئے دن تالابوں میں مچھلیوں کے مرنے کے واقعات انہیں فضلوں کی وجہ سے ہیں۔