ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور میں اجازت نہ دینے کے بائوجود مینگلور چلو ریلی نکالنے پر پولس نے کیا بی جے پی رہنمائوں کو گرفتار

بنگلور میں اجازت نہ دینے کے بائوجود مینگلور چلو ریلی نکالنے پر پولس نے کیا بی جے پی رہنمائوں کو گرفتار

Tue, 05 Sep 2017 18:29:47    S.O. News Service

بنگلور5/ستمبر (ایس او نیوز) بنگلور یوا مورچہ کی آواز پر  مینگلور چلو بائک ریلی  نکالنے  کے دوران، پولس نے ریلی کو فریڈم پارک  کے قریب  روک دیا  اور بی جے پی لیڈر بالخصوص سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ آر اشوک، اروند لمبائولی اور شوبھا کرندلاجے سمیت کافی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

فریڈم پارک کے قریب  جب پولس آر اشوک کو گرفتار کرنے اُن کے قریب پہنچی  تو آر اشوک پولس سےاُلجھ پڑے اور سوال کیا کہ کیا تمہارے پاس  میری گرفتاری کا  وارنٹ ہے ؟ اس دوران آر اشوک نے سڑک کے درمیان ہی سو گئے ، مگر  پولس نے اُنہیں کھینچ کر اپنی تحویل میں لے لیا۔

بی جےپی کارکنوں اور پولس کے درمیان یہاں کافی دیر تک لفظی جھڑ پ ہوئی، جس کے دوران فریڈم پارک میں سواریوں کی آمد ورفت میں خلل پیدا ہوا ۔ یہ علاقہ چونکہ شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے ، یہاں سواریوں کی چہل پہل کافی زیادہ ہوتی ہے۔

فریڈم پارک کے قریب جب یوا مورچہ کے صدر اور رکن پارلیمان پرتاپ سنہا  کو پولس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے  پولس کو ہی دھکا دینے کی کوشش کی، مگر پولس نے اسے بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان کے ساتھ ساتھ شوبھا کرندلاجے اور کافی دیگر بی جے پی لیڈران کو بھی گرفتار کرلیا البتہ  بعد میں سبھوں کو رہا کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے ریاست میں انتخابات نزدیک آتے جارہے ہیں، ریاست کے بعض حصوں میں شرپسند عناصر حالات کو بگاڑنے کی کوششوں میں مصروف نظر آرہے ہیں، مگر ریاست کے عوام شرپسندوں کی چالوں کو سمجھتے ہوئے اُنہیں حالات کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہیں دے رہے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی نے 7/ ستمبر کو بائک ریلی کے ذریعے مینگلور چلو  کا انعقاد کرنے کا  منصوبہ بنایا تھا، اور منصوبے کے مطابق آج 5/ستمبر کو یہ ریلی  ریاست کے مختلف شہروں سے مینگلور کے لئے نکلنے والی تھی، مگر ریاستی انتظامیہ نے ریلی پر ہی پابندی عائد کردی ،مگر اس کے بائوجود بھی جب بی جے پی اہلکاروں نے  ریلی نکالنے کے لئے پیش رفت کی، تو پولس نے  متعدد شہروں میں بی جے پی  لیڈران کو گرفتار کرتے ہوئے ریلی  کو ناکام بنادیا۔

خیال رہے کہ بی جے پی کا الزام ہے کہ ساحلی اضلاع بالخصوص مینگلور میں ہندو لیڈروں کا قتل ہورہا ہے، جس کو بنیاد بناکر یہ لوگ ریلی کا اہتمام کرنا چاہ رہے تھے۔بی جے پی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر پابندی عائد کی جائے۔

ایک طرف بی جے پی کو  مینگلور چلو  احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے، مگر بی جے پی اس بات پر بضد ہے کہ وہ 7/ ستمبر کو مینگلور میں اپنا احتجاج کرکے رہے گی۔ یہ دیکھنا اب دلچسپ ہوگا کہ پولس بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کارکنوں کو احتجاج کرنے سے روکنے میں کامیاب ہوپاتی ہے یا نہیں۔


Share: