نئی دہلی، 3/جون (ایس او نیوز /ایجنسی ) اتوار کو مختلف میڈیا میں لوک سبھا انتخابات کو لے کر جو ایگزٹ پول سامنے آئے ہیں، اُس میں بی جے پی کو پھر ایک بار زبردست جیت درج کرنے کے امکانات کو دکھایا گیا ہے اور ایکزٹ پول میں پھر ایک بار مودی کو ہی وزیر اعظم بننا طئے بتایا گیا ہے، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لیکن اپوزیشن انڈیا الائنس نے ایکزٹ پولس کے یکسر مسترد کردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ۴؍ جون کو ووٹوں کی گنتی کے بعد جو نتائج آئیں گے وہ بی جے پی کے لئے غیر متوقع ہوں گے۔
بی جے پی مخالف پارٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا اتحاد کو ۲۹۵؍ سے زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ ایگزٹ پول کو لے کر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ ’مودی میڈیا پول‘ ہے۔ آنجہانی گلوکار سدھو موسے والا کے گانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا انڈیا کو ۲۹۵؍ سے زیادہ سیٹیں ملنے والی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ یہ ایگزٹ پول نہیں ہے۔ اس کا نام `مودی میڈیا پول ہے، یہ مودی جی کا فینٹسی پول ہے۔ اس سوال پر کہ انڈیا الائنس کو لوک سبھا کے انتخابات میں کتنی سیٹیں ملیں گی انہوں نے کہا کہ `سدھو موسے والا کا گانا سنا ہے آپ نے، ٹو نائنٹی فائیوسیٹیں ملیں گی۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی راہل گاندھی کے دعوے کی ایک مرتبہ پھر تائید کی اور کہا کہ ان کے اتحاد کو ۲۹۵؍ سے زیادہ سیٹیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگزٹ پول صرف اور صرف عوام کا دھیان بھٹکانے کی کوشش ہیں اور کچھ نہیں۔ ہماری اپیل ہے کہ عوام ایکزٹ پول پر دھیان نہ دیں کیوں کہ اُس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایگزٹ پول کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بی جے پی کا دھیان ’ ای وی ایم‘ پر نہیں بلکہ ’ڈی ایم ‘ (ضلع مجسٹریٹس )پر ہے۔ بی جے پی والوں کو معلوم تھا کہ اس مرتبہ عوام کا غصہ آسمان پر ہے اور اپوزیشن ای وی ایم کی سخت نگرانی کر رہا ہے اس لئے بی جے پی ضلع مجسٹریٹس کو دھمکارہی ہے تاکہ نتائج اپنے حق میں کرسکے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس مرتبہ بی جے پی کی دال نہیں گلے گی۔ اکھلیش نے یہ بھی کہا کہ یہ ایگزٹ پول ضلع مجسٹریٹس کو ’سیٹ ‘ کرلینے کا نتیجہ ہیں لیکن ۴؍ جون کو نتائج مختلف ہوں گے۔
اکھلیش نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ایگزٹ پول کئی ہفتوں پہلے ہی تیار کرلئے گئے تھے انہیں صرف یکم جون کو جاری کیا گیا تاکہ عوام کو بھرم میں ڈالا جاسکے اور نتائج کے دن گڑبڑیاں کرنے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ اسی لئے ہم نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر گنتی مرکز پر ڈٹ جائیں اور بی جے پی کی بدعنوان ٹیموں کو پَر بھی نہ مارنے دیں۔ معروف صحافی اور ترنمول کی رکن پارلیمنٹ سگاریکا گھوش نے کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں اقتدار میں بیٹھی جماعت ڈکٹیٹر شپ کی جانب گامزن ہونا چاہتی ہے، وہاں صرف اور صرف اس جماعت کی چاپلوسی کے لئے اس طرح کے ایگزٹ پول دئیے جاتے ہیں۔ ان میں حالانکہ کئی نقائص ہیں جن کی نشاندہی کی جاسکتی ہے اور کی بھی جارہی ہے لیکن ہمیں ان پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے ۴؍ جون کا انتظار کرنا چاہئے جب نتائج اپوزیشن کے حق میں آئیں گے۔ کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے کہا کہ یہ مودی کا پول ہے جس میں صرف اور صرف حکمراں جماعت کی چاپلوسی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس میں ایسے کئی نقطے ہیں جن کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں ۲۵؍ سیٹیں ہیں لیکن ایگزٹ پول ۳۳؍ سیٹیں بتارہے ہیں۔ اسی طرح سے ہریانہ میں ۱۰؍ سیٹیں ہیں لیکن پول میں ۱۹؍ سیٹیں بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہماچل میں صرف ۴؍ سیٹیں ہیں لیکن وہاں ۹؍ سیٹیں بتائی جارہی ہیں۔ سپریہ شرینیت کے مطابق اس کے علاوہ بھی کچھ بڑی گڑبڑ ہے جس پر سوشل میڈیا والوں کا دھیان جاچکا ہے اور وہ آن لائن ان گودی چینلوں کی کلاس لے رہے ہیں لیکن ہمارا یہاں پر یہی کہنا ہے کہ عوام انہیں سچ نہ مانیں کیوں کہ یہ حقیقت نہیں ہوتے۔ محض چند لوگوں کی رائے معلوم کرکے بنائے جاتے ہیں۔ اس لئے اصل نتائج کا انتظار کریں جو ۴؍ جون کو آئیں گے اور جن کے بعد ملک میں انڈیا اتحاد کی سرکار قائم ہو گی۔