نئی دہلی ،2؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آسام کے لئے نیشنل شہریت رجسٹر (این آر سی )کا مسودہ جاری کئے جانے کا موضوع لوک سبھا میں اٹھا اور ایک کانگریس رکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست کا کوئی بھی جائز اور حقیقی شہری کا نام اس فہرست سے غائب نہیں ہونا چاہئے۔آسام کے سلچر سے کانگریس کی رہنماسشمتا دیوی نے وقفہ صفر میں اس موضوع کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ 31دسمبر کو آسام کے لئے این آر سی کا پہلا ڈرافٹ جاری کیا ہے جس کے بعد سے ریاست کے شہریوں میں گھبراہٹ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں 2.38کروڑ شہریوں کے دعوے ہیں لیکن پہلی مسودہ لسٹ میں صرف 1.93 کروڑ لوگوں کے نام ہیں۔سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 30نومبر کو کہا تھا کہ 31دسمبر کی آدھی رات کو ختم ہونے پر ریاست کے 2.38 کروڑ لوگوں کے دعووں کے سلسلے میں این آر سی کا مسودہ شائع کیا جانا چاہئے۔سشمتا نے کہاکہ ہم مرکزی حکومت سے بس یہی درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ فہرست میں کوئی حقیقی اور جائز شہری کا نام غائب نہیں ہونا چاہئے۔ترنمول کانگریس کے دنیش ترویدی نے آدھار کارڈکی بایومیٹرک نظام میں خامیوں کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے کسانوں، مزدوروں کے انگلیوں کے نشانات مٹ جاتے ہیں اور بایومیٹرک نظام سے ان کے فنگر پرنٹ کی توثیق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی فلاح و بہبود کی منصوبہ بندی کا فائدہ انہیں نہیں مل پاتا ہے۔انہوں نے حکومت سے ایک مخصوص نظام بنانے کا مطالبہ کیا جس میں ایسے لوگوں کو خود کار طریقے سے فائدہ مل جائے اور بایومیٹرک ملاپ کی بے ضابطگیوں کا نقصان انہیں نہیں اٹھانا پڑے۔بی جے پی کے اجے نشاد نے دیگر مرکزی منصوبوں کی مانند دیہی علاقوں میں پل پلیا کی تعمیر کے لئے وزیر اعظم پل منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا۔کیرل کانگریس (ایم) کے جوس کے منی نے اسٹیٹ بینک آف تروانکور کا الحاق بھارتی اسٹیٹ بینک میں ہو جانے کے بعد اس سے تعلیم کے لئے قرض لینے والے طالب علموں کے سامنے پیداہونے والی مشکلات کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت سے درخواست کی کہ ایس بی آئی کے حکام سے بات چیت کر طالب علموں کو مکمل مدد دی جائے۔