تہران4مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران نے اپنے جدید روسی ساختہ ایس 300 میزائل فضائی دفاعی نظام کو فعال بنا دیا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویڑن نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ”ایس 300 فضائی دفاعی نظام کا سرکاری اور فوجی عہدہ داروں کی موجودگی میں تجربہ کیاگیاہے“۔اس میزائل دفاعی نظام کا ایک صحرائی علاقے میں تجربہ کیا گیا ہے اور اس نے ایک بیلسٹک میزائل اور ڈرون سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں روکا ہے۔ایران کے فضائی دفاع کے کمانڈر جنرل فرزاد اسماعیلی نے ٹیلی ویڑن کو بتایا ہے کہ ملک میں تیار کردہ باور 373 جدید فضائی دفاعی نظام کا بھی بہت جلد تجربہ کیا جائے گا۔ان کے بہ قول یہ نظام ایس 300 سے بھی زیادہ جدید ہے۔البتہ انھوں نے ایس 300 نظام کی افادیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے دشمنوں کے لیے زیاد مہلک ہے اور اس سے ہماری فضائی حدود زیادہ محفوظ ہوگئی ہیں۔ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اس جدید دفاعی نظام کو فعال بنانے کے لیے تجربہ کیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ایران پر جنوری میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے پر نئی پابندیاں عایدکردی ہیں۔واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان 2007ء میں ایس 300 میزائل دفاعی نظام کا سودا طے پایاتھالیکن 2010ء میں روس نے ایران پر عالمی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایس 300 نظام کی ترسیل روک دی تھی۔جولائی 2015ء میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان متنازعہ جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے سے چندے قبل روس نے ایس 300 نظام تہران کو بھیجنے کی منظوری دی تھی لیکن امریکا اور اسرائیل نے روس کو اس فیصلے پر کڑی تنقیدکانشانہ بنایا تھا۔ایران نے گذشتہ سال روس سے ملنے والے طویل فاصلے کے میزائل دفاعی نظام ایس-300 کوفردومیں واقع جوہری تنصیب کے تحفظ کے لیے نصب کردیا تھا۔فضائی دفاع کے کمانڈر جنرل فرزاد اسماعیلی نے تب کہاتھاکہ ہرقسم کے حالات میں جوہری تنصیبات کے تحفظ کو ترجیح حاصل ہے“۔ایران نے قْم شہر کے نزدیک پہاڑ علاقے میں واقع فردو کی جوہری تنصیب میں جنوری 2016ء کے بعد سے یورینیم کی افزودگی کا کام بند کر رکھا ہے۔اس نے یہ اقدام چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد کیا تھا۔