نئی دہلی ، 19؍ نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سینئر ممبر پارلیمنٹ اور سماجوادی لیڈر شرد یادو نے گجرات اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کی یکجہتی کو ہی بی جے پی کو شکست دینے کا واحد راستہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں کانگریس کو ذمہ داری بخوبی انجام دینا ہوگا۔یادو نے کہا کہ ہے کہ گجرات میں چونکہ اپوزیشن کی جانب سے کانگریس ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہے۔لہٰذا اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست میں سیاسی مہارت کے ساتھ مختلف سماجی قوتوں کو متحد کرے۔انہوں نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ کانگریس اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے سے پیچھے ہٹے گی۔گجرات میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر اختلافات کی خبروں کے درمیان یادو نے بات چیت میں کہا کہ چونکہ کانگریس طویل مدت تک اکیلے اقتدار میں رہی ہے، لہذا پہلے وہ اتحاد کی سیاست میں زیادہ ماہر نہیں تھی۔لیکن اب وہ اس میں مہارت رکھتی ہے۔انہوں نے تاہم کہا کہ بی جے پی ہر الیکشن ایک سوال بنا کر لڑتی ہے اور اس کے لیے کسی بھی طرح کے اقدامات سے گریز نہیں کرتی۔بی جے پی کسی بھی پارٹی کے ساتھ نرمی سے اتحاد کرتی ہے جبکہ کانگریس پورے دل سے اتحاد نہیں کرتی ہے۔یادو نے دعوی کیا کہ اتر پردیش کے انتخابات کے بعد ملک میں عام آدمی کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔سینئر لیڈر سے پوچھا گیا تھا کہ بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مسلسل الیکشن جیت رہی ہے اور لوگوں کا بھروسہ ان پر قائم ہے تویادو نے کہاکہ چار بڑے حادثات،نوٹ بندی ، جی ایس ٹی، بہار میں مہاگٹھ بند کا ٹوٹنا اور گجرات میں راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لئے ہوئی افرا تفری نے عام لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔گزشتہ تین سال سے ملک میں گھوم پھر کر ہندو۔مسلمان کے ارد گرد ہی بحث ہوتی رہی ہے۔لوگ اب سوچ رہے ہیں کہ 2014میں کیا اسی لیے انہیں تبدیل کیا تھا۔یادو نے کہاکہ لوگوں کی یہ تکلیف ہماچل میں بھی تھی اور گجرات میں بھی ہے اور یہ تکلیف مقامی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ پورے ملک میں اقتصادی، سماجی اور سیاسی طور پر ہوئی افراتفری کی وجہ سے ہے۔اپوزیشن کے پاس مودی کے مقابلے کا کوئی چہرہ نہ ہونے کے سوال پر یادو نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ بہت سے متبال اس دنیا میں موجود ہیں۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں 67فیصد ووٹروں نے بی جے پی کو انکارکردیا تھا۔اس میں 15فیصد اقلیتی ووٹ ہٹا دیں تو بھی 52 فیصد ہندو ووٹر بی جے پی کی مخالفت میں تھے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہو گا کہ کانگریس اقلیتی تقسیم کی وجہ سے ہاری تھی۔