بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا جن کے پاس ریاست کا مالیاتی قلمدان بھی ہے ، 13یا17؍ مارچ کو 2017-18 کا بجٹ پیش کریں گے۔ سدرامیا کو ریاست میں بارھویں بار بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ موقع مل رہا ہے۔ بحیثیت وزیراعلیٰ سدرامیا کا یہ چوتھا بجٹ ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بجٹ پیش کرنے کیلئے تمام تیاریاں اور سرکاری افسران سے بات چیت کے دور مکمل کرلئے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار بجٹ میں کئی فلاحی اعلانات کی توقع کی جارہی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو متوجہ کیا جاسکے۔ ریاست میں مسلسل خشک سالی اور پانی کی قلت کے ساتھ فصلوں کو بھاری نقصان کو دیکھتے ہوئے رعیت طبقہ اور دیہی عوام کیلئے وزیر اعلیٰ کی طرف سے خصوصی مراعات کی توقع کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی ریاست میں برسوں سے زیر التواء نئے تعلقہ جات کی تشکیل کے عمل کو بھی اس بجٹ کے ذریعہ قطعیت دی جائے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے اس بجٹ میں چالیس نئے تعلقہ جات کا اعلان کریں گے۔ سماجی بہبود کے شعبے میں زیادہ فنڈز کا اعلان کرنے کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی طرف سے بزرگ شہریوں کیلئے نئی فلاحی اسکیموں کے اعلان کی توقع کی جارہی ہے۔ پسماندہ طبقات سے وابستہ سدرامیا کی طرف سے اپنے بجٹ میں دلتوں ، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کیلئے خصوصی اسکیموں کے نفاذ کا اعلان کیا جاسکتاہے۔ انا بھاگیہ اسکیم کے تحت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو دئے جانے والے راشن کی مقدار میں اضافہ کا اعلان پہلے ہی کیاجاچکا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ اس اعلان کو بجٹ میں قطعی شکل دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سدرامیا سب سے زیادہ بجٹ پیش کرنے کے اعتبار سے ریاست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ ریاستی گورنر واجو بھائی والا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ گجرات کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے چودہ مرتب بجٹ پیش کیا ہے۔ جبکہ آندھرا پردیش کے وزیرخزانہ کی حیثیت سے کے روسیا نے 16مرتبہ بجٹ پیش کیاہے، لیکن سب سے زیادہ مرتبہ بجٹ پیش کرنے کا امتیاز مغربی بنگال کے عاشم داس گپتا کو حاصل ہے۔ پیر سے ریاستی لیجسلیچر کا اجلاس شروع ہونے والا ہے ، یہ اجلاس پانچ دنوں تک چلے گا اس کے بعد سدرامیا کی طرف سے بجٹ کی تیاریوں کی میٹنگیں شروع کردی جائیں گی۔ مختلف محکموں ، اداروں اور دانشوروں سے تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ تبادلۂ خیال کا یہ سلسلہ 1994 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی دیوے گوڈا کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے سدرامیا نے ہی شروع کیاتھا۔ 23؍ مارچ 1995 کو سدرامیا نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، اس کے بعد 4؍ مارچ 1996 ،18؍ مارچ 1997؍ 18؍ مارچ 1998، 17؍ مارچ کو1999 ، کا بجٹ پیش کیا۔ اس کے بعد بحیثیت نائب وزیراعلیٰ انہوں نے 11؍ مارچ 2005 اور 20؍ مارچ 2006 کا بجٹ پیش کیا۔ اس کے بعد 2013میں کانگریس کے اقتدار پر آنے کے بعد سے سدرامیا کو یہ چوتھی مرتبہ بجٹ پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔