بھٹکل 11/جون (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے اتھاریٹی (NHAI) نے ساحلی کرناٹکا میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کے لئے ٹنڈر کے ذریعے آئی آر بی انفراسٹرکچر کو کام سونپا تھا، بتایا جارہا ہے کہ سڑک کو فورلائن میں تبدیل کرنے کا کام ٹنڈر کے حساب سے کافی پہلے ختم ہوجانا چاہئے تھا، مگر ابھی بھی تقریبا آدھا کام باقی ہے، ایسے میں ساحلی کرناٹکا کے مختلف حصوں میں ایک کے بعد ایک وارداتیں پیش آرہی ہیں جس کے لئے عوام تمام وارداتوں کے لئے آرآئی بی کمپنی کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں اور الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ساحلی علاقوں کے موسمی حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے کاموں کو سائنٹیفک طریقے سے انجام نہیں دیا گیا ۔
کمٹہ میں آج اتوار کو پیش آئی واردات کے بعد عوام کا غصہ اُبھر کر سامنے آیا ہے جہاں تین معصوم بچوں کی موت واقع ہوگئی اور آٹھ افراد شدید زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں ہائی وے کی توسیع کے لئے جس پہاڑی کو توڑنے کا کام کیا گیا تھا، اُس کے لئے پٹاخوں کے ذریعے دھماکے کرائے گئے تھے۔ ضلع اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر ایس نکھول کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عوام نے اُنہیں سوال کیا کہ قانون کے مطابق رہائشی علاقوں میں ایسے پٹاخوں کے ذریعے چٹانوں کو توڑنے کی اجازت نہیں ہے، مگر جب آئی آر بی کے لوگ دھماکے کررہے تھے تو اُس وقت ضلعی انتظامیہ خاموش کیوں تھی ؟ عوام کا کہنا ہے کہ اُن دھماکوں کے بعد جو چٹانیں ٹوٹ کر ٹکڑے ہوگئی تھی، آج تیز رفتار بارش کی وجہ سے پہاڑی سے تیز رفتار پانی کے بہائو میں وہ چٹانیں پہاڑی کے نیچے واقع مکانوں پر جاگری ہیں اور اسی سے تین بچوں کی موت واقع ہوئی ہے۔
اس سے قبل آج صبح بیندور کے قریب اوتینانی گھاٹ پر پھر ایک بار پہاڑی چٹان کھسکنے کی واردات پیش آئی اور مٹی کا بہت بڑا تودہ ہائی وے پر جاگرا، اوتینانی میں آج صبح پھر ایک بار نیشنل ہائی وے چار پانچ گھنٹوں کے لئے بند ہوگیا، جس سے سڑکوں کے ذریعے سفر کرنے والوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ بتایا گیا ہے کہ ہائی وے بند ہونے کو دیکھتے ہوئے سواریوں کے لئے متبادل انتظٓام کیا گیا، مگر دو دن میں دوسری مرتبہ پہاڑی چٹان کھسکنے کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ یہاں تیز رفتار بارش کے نتیجے میں آئندہ بھی اسی طرح مٹی کے تودے ہائی وے پر گرنے کا امکان باقی ہے اور کسی بھی وقت یہاں پہاڑی کی چٹان کھسک کر گرسکتی ہے۔ خیال رہے کہ دو روز پہلے ہی یہاں اسی طرح کی واردات پیش آئی تھی جس پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بیندور پولس تھانہ میں آئی آر بی کمپنی کے آفسران پر لاپرواہی برتنے کا کیس درج کیا جاچکا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اوتینانی گھاٹ پر دونوں مرتبہ پہاڑی چٹان کھسکنے کی واردات آدھی رات کے وقت پیش آئی ہے جب سڑک پر کسی سواری کا گذر نہیں ہورہا تھا، البتہ یہ واردات دن کے اوقات میں ہونے کی صورت میں چٹان کسی بھی سواری پر گرنے کے خدشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس راستے سے گذرنے والی سواریوں کو نہایت محتاط ہوکر اور ہوشیاری کے ساتھ ڈرائیونگ کرنے کی ضرورت ہے۔
اِدھر بھٹکل میں بھی آئی آر بی کمپنی کے کاموں کو لے کر عوام سخت ناراض ہیں اور الزام لگایا جارہا ہے کہ ہائی وے کی توسیع کا کام آدھورا چھوڑنے سے بارش کے پانی کو گذرنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی ہے، جس سے پانی مکانات اور کھیتوں میں گھس رہا ہے۔ آج ہوئی بارش سے وینکٹاپور اور دیگر علاقوں سے اسی طرح کی شکاتیں موصول ہوئی ہیں۔
اس سے قبل ادھورے کاموں سے مختلف جگہوں پر سڑک حادثوں کی بھی وارداتیں پیش آئی ہیں اور عوام اس بات کا الزام لگاچکے ہیں کہ ہائی وے کی توسیع کو لے کر کام جگہ جگہ ادھورا چھوڑ کر اچانک روڈ کو دوسری طرف موڑدیا گیا ہے، جس سے بالخصوص رات کے اندھیرے میں تیز رفتار سواریوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سامنے روڈ نہیں ہے، ایسے میں لوگوں کے ہاتھوں سے اسٹرینگ پر سے قابو کھوجاتا ہے جس سے یا تو سواری اُلٹ جاتی ہے یا پھر مخالف سمت سے آنے والی سواری کو ٹکرماردیتی ہے۔ عوام نے اس بات کا بھی الزام لگایا تھا کہ جہاں سڑک کو اچانک دوسری طرف موڑا گیا ہے وہاں آئی آر بی کمپنی کی جانب سے کسی بھی طرح کا نہ سگنل کا انتظام کیا گیا ہے اور نہ ہی روڈ کے مُڑنے کا کوئی نشان دکھایا گیا ہے۔
اوتینانی میں ہوئے پہاڑی کھسکنے کی واردات پر اُڈپی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آئی آر بی کمپنی کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے، البتہ آج کے کمٹہ میں ہوئے واقعے پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اس بات کی اطلاع نہیں مل سکی کہ آیا اُترکنڑا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی آئی آر بی کمپنی کے خلاف لاپرواہی کا معاملہ درج کیا جائے گایا نہیں۔