ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُتر کنڑا ضلع میں حالات معمول پر لوٹ آئے؛ بی جے پی لیڈر فرقہ پرست واقعات کیلئے ذمہ دار:وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

اُتر کنڑا ضلع میں حالات معمول پر لوٹ آئے؛ بی جے پی لیڈر فرقہ پرست واقعات کیلئے ذمہ دار:وزیراعلیٰ سدرامیا کا بیان

Thu, 14 Dec 2017 12:41:44    S.O. News Service

بنگلورو۔13؍دسمبر ( ایس او نیوز)  اُتر کنڑا ضلع کے بیشتر مقامات پر جہاں گزشتہ دو دنوں سے پریش کملاکر میستا کی موت کے معاملے میں تشدد پھوٹ پڑا تھا، پتھراؤ اور آتشزنی کے واقعات پیش آئے تھے، آج وہاں حالات معمول پر لوٹ آئے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ پریش میستا کی موت واقع ہوئی تھی جس کو فرقہ پرست ہندوتوا تنظیموں نے قتل قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے پہلے ہوناور اور کمٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا پھر سرسی میں امتناعی احکامات نافذ رہنے کے باوجود ایک احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی تھی۔ جب اس نوجوان کی لاش جمعہ کے دن ہوناور میں برآمد ہوئی تو بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے اس کو قتل قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا تھا اور مبینہ قتل کی این آئی اے کے ذریعہ جانچ کرانے کامطالبہ کرتے ہوئے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔ ضلع پولیس انتظامیہ کی اطلاع کے مطابق ضلع کے کسی بھی حصہ سے تازہ تشدد کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ضلع بھر میں احتیاطی اقدامات کے طور پر پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا ہے۔ ضلع بھر میں امتناعی احکامات ہنوز نافذ العمل ہیں ۔

پولیس اور صحافیوں پر حملہ: پیر کے دن بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں نے کمٹہ علاقہ میں آتشزنی کے واقعات میں ملوث ہو کر کافی توڑ پھوڑ کی۔ گزشتہ روز سرسی میں پولیس کی گاڑیوں اور ان واقعات کا کوریج کرنے پہنچے صحافیوں پر بھی سنگباری کی۔ پڑوسی ریاست گوا کو جوڑنے والی قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حرکت گزشتہ دو روز سے شدید طور پر متاثر رہی کیونکہ مظاہرین نیشنل ہائی وے  کے  درمیان ہی ٹائرس جلا کر دھرنادے رہے تھے۔ اس دوران سی پی آئی ایم ایل کرناٹک کے سکریٹری بی ردریا، اراکین اسمبلی اور ارکان لوک سبھا کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جنہوں نے ساحلی علاقوں میں تشدد کو اکسایا تھا۔ حالانکہ یہ فرقہ وارانہ طور پر پرامن علاقہ ہے۔

وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنے ایک اخباری بیان میں الزام لگایا  کہ بشمول بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا ، مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے اور شوبھا کرندلاجے ان فرقہ پرست واقعات کے لئے ذمہ دار ہیں ۔

متوفی کے کنبہ سے ہمدردی نہیں : کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے ایک نوجوان کی موت کے بعد شمالی کنڑا ضلع میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں کو موردالزام ٹہرایا۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بی جے پی نے یہ کام کیا ہے ۔بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کو اس نوجوان کے خاندان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔سدارامیاجو کانگریس حکومت کے کارناموں اور ترقیاتی کاموں کو اجاگرکرنے ’’سدھاناسمبراما‘‘ پروگرام کے لئے بسواکلیان شہر میں تھے ،نے بسواکلیان کے ہیلی پیڈ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اور دیگر سنگھ پریوار کی تنظیموں کے ارکان تشدد برپا نہ کرتے اور اپنے گھروں میں ہی رہتے تو ساحلی علاقہ میں امن ہوتا۔سدارامیا نے بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ زعفرانی جماعت کے ریاستی لیڈروں نے بار بار عوام سے جھوٹ بولا ہے اور اقتدار میں آنے کے لئے اور اپنے فائدے کے لئے ہی عوام کا استعمال کیا ہے۔ بی جے پی فرقہ وارانہ فسادات کروارہی ہے اور قانون شکنی کررہی ہے تاکہ الجھن پیدا کی جاسکے ۔ تاہم ریاستی حکومت ایسی کسی بھی کوشش کو آہنی پنجہ سے کچلے گی۔انہوں نے بی جے پی پرشدیدنکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عوام کو اکسانے جھوٹ اور افواہیں پھیلانے کے لئے سوشیل میڈیا کا استعمال کررہی ہے ۔بی جے پی صرف فسادات کی زبان سمجھتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کس طرح پیدا کی جائے ،یہ اچھی طرح جانتی ہے ۔


Share: