ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ؛ دو ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے سے عدالت کی معذرت

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ؛ دو ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے سے عدالت کی معذرت

Wed, 06 Sep 2017 21:27:08    S.O. News Service

تین ہفتوں کے بعد ضمانت عرضداشت کی سماعت کرنے والی خصوصی بنچ کے سامنے سماعت متوقع 
ممبئی ،6؍ستمبر(پریس ریلیز ) مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ واقعہ بنام اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں دو مسلم نوجوانوں کو خصوصی مکوکا عدالت کی جانب سے دی گی سال کی سزا کے خلاف اور انہیں ضمانت پر رہا کیئے جانے والے معاملے میں آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سماعت کرنے سے معذرت کرلی اور فریقین کو حکم دیا کہ وہ چیف جسٹس سے گذارش کریں کہ ان کے معاملے کو کسی ایسی بینچ کے روبرو بھیجا جائے جو ضمانت کے معاملات کی سماعت کررہی ہے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔

آج دونوں ملزمین ڈاکٹر محمدشریف اور مظفر تنویر کو ضمانت پر رہا کیئے جانے والے معاملے کی سماعت جسٹس اے اے سید اور جسٹس ایس وی کوتوال کے سامنے ہونا تھی لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے دفاعی وکلاء سے معذرت کرلی کہ انہیں اپیل کی سماعت کرنے کے اختیارات دیئے گئے ہیں لہذا وہ ضمانت عرضداشت پر سماعت کرنے سے قاصرہیں ۔

عدالت نے دفاعی وکیل آباد فونڈا اور وکیل استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ مشترکہ طور پر چیف جسٹس کے سامنے عرضداشت داخل کریں اور ان کی ضمانت عرضداشت کی سماعت مخصوص بینچ جس کی سربراہی فی الحال جسٹس رنجیت مورے کررہے ہیں کہ سامنے پیش کیئے جانے کی گذارش کریں ۔

ڈاکٹر محمدشریف اور مظفر تنویر کی ضمانت عرضداشت پر عدالت نے تین ہفتوں کے لیئے معاملے کی سماعت ملتوی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ستمبر کو آرتھرروڈ جیل میں قائم خصوصی مکوکا عدالت نے اس معاملے کا سامنا کررہے  مسلم نوجوانوں میں سے چند مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا تھا جبکہ چند نوجوانوں کو آٹھ سال ، چند نوجوانو ں کو  قید بامشقت کی سزا اور دیگر نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔انہوں نے کہا کہ متذکرہ دونوں ملزمین کی عرضداشتوں کا فیصلہ ہوجانے کے بعد عمر قید کی سزائے پائے مسلم نوجوانوں کے لیئے کوشش کی جائے گی نیز اس سے قبل آٹھ سالوں کی سزا پانے والے مسلم نوجوانوں کو ممبئی ہائی کورٹ نے راحت دی تھی اور وہ جیل سے باہر ہیں۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ افروز صدیقی، ایڈوکیٹ عبدالمتین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ ساجد قریشی و دیگر موجود تھے ۔
 


Share: