کاروار ، 21 / اگست (ایس او نیوز) کمٹہ تعلقہ کے تنڈرکولی میں سال 2017 کے دوران پہاڑی کھسکنے کی وجہ سے جو نقصان ہوا تھا اس سے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا اور ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنے کام کے سلسلے میں چوکسی اختیار نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امسال انکولہ تعلقہ کے شیرور میں پہاڑی چٹان کھسکنے کی بھاری قیمت ادا کرنے کی صورت حال پیدا ہوگئی ۔
خیال رہے کہ 2017 کے حادثے کے بعد ضلع انتظامیہ کی طرف سے این ایچ اے آئی اور آئی آر بی کے کام کی توثیق کرنے والے انڈیپنڈنٹ انجینئر کے ساتھ میٹنگ منعقد کی تھی اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات پر روک لگانے کے اقدامات پر صلاح و مشورہ کیا گیا تھا ۔ اس میٹنگ کے بعد جن مقامات پر پہاڑیاں کھسکنے کے امکانات تھے وہاں پر ماہرین کے ذریعے معائنہ کروانے اور اس طرح حادثات کی روک تھام کے سلسلے میں ان سے ماہرانہ مشورے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔
اضافی زمین کا مطالبہ :اس میٹنگ کے دوران این ایچ اے آئی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا تھا کہ محفوظ طریقے پر پہاڑوں کی کٹائی کے لئے انہیں مزید جنگلاتی زمین کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں این ایچ اے آئی نے مرکزی محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات کو مراسلہ بھیجتے ہوئے کاروار کے بحری اڈے والے علاقے میں موجود 6.68 ہیکٹر جنگلاتی زمین سمیت کاروار سے بھٹکل تک 159.8 ہیکٹر جنگلاتی زمین اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ ہوناور-کنداپور علاقے میں 3.48 ہیکٹر جنگلاتی زمین بھی طلب کی گئی تھی ۔
اس کے جواب میں مرکزی محکمہ ماحولیات اور محکمہ جنگلات نے پہاڑوں کی سائنٹفک انداز میں کٹائی کے لئے 1.63.28 ہیکٹر اضافی زمین این ایچ اے آئی کے حوالے کی تھی ۔ اس کے علاوہ ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے بینگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسس کے پروفیسر سیتا رام کے ذریعے منصوبے سے متعلقہ پہاڑی علاقے کا معائنہ کرواتے ہوئے ان کا مشورہ طلب کیا تھا ۔
این ایچ اے آئی اور آئی آر بی کی غفلت :معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر سیتا رام نے پہاڑوں کو ڈھلان کی شکل میں کاٹنے کا مشورہ دینے کے ساتھ مستقبل میں چٹانوں کو کھسکنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے مکمل اور تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی تھی ۔ لیکن عوام کے جان و مال کو نظر میں رکھ کر مرکزی حکومت کی طرف سے اضافی جنگلاتی زمین فراہم کیے جانے کے باوجود این ایچ اے آئی اور ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی والوں نے صحیح اور درست طریقے سے جنگلاتی زمین اور پہاڑیاں کاٹنے پر توجہ نہیں دی ۔ ماہرین کے مشوروں پر عمل نہیں کیا ۔ نتیجہ کے طور پر ان دونوں محکمہ جات کی اسی غفلت نے عوامی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کا کام پورا کیا ہے ۔
گرین ٹریبیونل نے مانگی تفصیلات :شیرور میں چٹان کھسکنے کے معاملہ اور اس میں جان گنوانے والے افراد کے تعلق سے نیشنل گرین ٹریبیونل نے از خود شکایت درج کر لی ہے اور جیولوجیکل سروے آف انڈیا اور این ایچ اے آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے کی مکمل تفصیلات طلب کی ہے ۔
شیرور میں پہاڑی چٹان کھسکنے کے حادثے کے بعد جیولوجیکل سروے آف انڈیا، این ایچ اے آئی اور کرناٹکا حکومت کی طرف سے جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اس میں سائنٹفک طریقے سے پہاڑوں کی کٹائی نہ کرنے کو اس حادثے کا اہم سبب بتایا گیا ہے ۔
اسی نکتے کو دھیان میں رکھتے ہوئے نیشنل گرین ٹریبیونل نے اس معاملے کی پوری تحقیقات کا عمل شروع کیا ہے ۔ اس طرح پہاڑی چٹانیں کھسکنے کی اصل وجوہات سامنے آنے کی توقع ہے ۔