گڑگاؤں، 6؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )پڑوسیوں سے جھگڑے کے بعد جان بچا کر 8ماہ کی بیٹی کو لے کر میکے جا رہی خاتون سے اجتماعی آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔درندوں نے خاتون کے ہاتھ سے 8ماہ کی بچی کو چھین کر اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا۔بچی کا سر سڑک پر ٹکرایا اور اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔دیر رات متاثرہ خاتون کی شکایت پر آئی ایم ٹی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیاہے ۔خاتون نے پیر کو اجتماعی آبروریزی کا معاملہ درج کرایاتھا۔معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اے سی پی بھی پیر کی صبح آئی ایم ٹی تھانے پہنچے۔پولیس نے اس معاملے میں اجتماعی عصمت دری کی دفعہ بھی جوڑدی ہے۔پولیس کے مطابق ،خاتون شوہر کے ساتھ گاؤں باس کسلا میں رہتی ہے۔29؍مئی کی رات شوہر کا پڑوسی سے جھگڑا ہو گیا تھا۔رات کو شوہر کے ڈیوٹی پر جانے کے بعد پڑوسیوں نے پھر جھگڑا شروع کر دیا،اس پر خاتون 8ماہ کی بیٹی کو لے کر میکے جانے کے لیے آئی ایم ٹی چوک آگئی، یہاں پر اس نے ٹرک میں لفٹ لی۔ٹرک ڈرائیور نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو وہ کھیڑکی دو لا ٹول کے پاس اتر گئی۔اس کے بعد اس نے ٹول سے آٹو پکڑا ، آٹو میں تین نوجوان تھے۔
متاثرہ خاتون نے کہاکہ آٹو میں بیٹھتے ہی انہوں نے مجھے چھیڑنا شروع کر دیا،میں بری طرح ڈر گئی، میری گود میں بیٹھی 8ماہ کی میر ی بیٹی گھبرا کر رونے لگی۔انہوں نے اسے مجھ سے چھینا اور آٹو سے باہر پھینک دیا۔اس کے بعد انہوں نے میری آبروریزی کی اور فرار ہو گئے۔الزام ہے کہ تینوں نے ویران جگہ لے جاکر اس کی آبروریزی کی۔کسی طرح خاتون میکے پہنچی اور دیر رات آئی ایم ٹی تھانے میں شکایت دی گئی۔پولیس نے نامعلوم نوجوانوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیاہے ۔دو دن بعد اس نے ڈرتے ڈرتے شوہر کو آبروریزی کی بات بتائی، اس کے بعد معاملہ میں گینگ ریپ کی دفعہ جوڑ دی گئی ہے ۔قابل ذکرہے کہ ایک طرف تو ریاستی حکومت سے لے کر ڈی جی پی سطح تک کے افسران خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے اور اس سمت میں کام کرنے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن گڑگاؤں پولیس ایسے معاملات پر کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔متاثرہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ شکایت دینے پر پہلے دن پولیس نے معمولی چھیڑخانی کا معاملہ مان کر بچی کی موت کامعاملہ درج کیا، خاتون بار بار تھانے کا چکر کاٹتی رہی، اس کے بعد معاملہ اعلی حکام کے پاس پہنچنے پر اتوار کواجتماعی آبروریزی کی دفعہ شامل کر دی گئی ۔